Politics
نوجوانوں کو نوکری دی جائے فلاحی امداد نہیں، برطانوی وزیر
برطانوی چانسلر جان ہیلی نے آئندہ ماہ کے بجٹ سے قبل اپنے ایک اہم بیان میں کہا ہے کہ نوجوانوں کو مالی امداد کے بجائے روزگار کے مواقع فراہم کرنا سب سے بہتر قدم ہے۔ حکومت پر سرکاری قرضوں کے اخراجات کم کرنے کے لیے شدید دباؤ پایا جا رہا ہے۔
برطانوی حکومت میں اہم ذمہ داریاں نبھانے والے جان ہیلی نے آئندہ ماہ پیش کیے جانے والے بجٹ سے قبل ایک اہم پالیسی بیان جاری کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک کے نوجوانوں کو مالی فوائد اور فلاحی امداد دینے کے بجائے سب سے بہتر تحفہ روزگار کی فراہمی ہے۔ اس وقت برطانوی حکومت کو سرکاری قرضوں کے بڑھتے ہوئے اخراجات کو کم کرنے کے لیے شدید مالی اور سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔ حکومتیحلقے اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے اخراجات میں کمی اور پیداواری شعبوں کو فروغ دینا ناگزیر ہو چکا ہے۔ جان ہیلی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب معاشی ماہرین اور سیاست دانوں کے درمیان فلاحی ریاست کے اخراجات اور نوجوانوں میں بے روزگاری کے خاتمے کے حوالے سے گرما گرم بحث جاری ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ ایک ایسا لائحہ عمل تیار کیا جائے جس کے تحت نوجوانوں کو نوکریوں کے بہتر مواقع مل سکیں تاکہ وہ ملکی معیشت میں بھرپور کردار ادا کر سکیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ فلاحی امداد پر انحصار کم کرنے سے جہاں ایک طرف سرکاری خزانے پر بوجھ کم ہوگا، وہیں دوسری طرف نوجوانوں میں خود اعتمادی اور کام کرنے کی صلاحیت بھی پروان چڑھے گی۔ آئندہ ماہ آنے والے بجٹ میں اس حوالے سے مزید اہم اعلانات متوقع ہیں جن پر عوام اور اپوزیشن دونوں کی گہری نظر ہے۔ حکومت کے اس مؤقف سے یہ واضح ہوتا ہے کہ آنے والے دنوں میں فلاحی اسکیموں کے بجائے روزگار کے مواقع پیدا کرنے والی پالیسیوں کو ترجیح دی جائے گی تاکہ طویل مدت میں ملکی معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کیا جا سکے۔