Entertainment
سلپ ناٹ کا برطانوی شو، مرلن مینسن کی شمولیت پر مداحوں کا بائیکاٹ
برطانیہ میں ہونے والے سلپ ناٹ کے ایک کنسرٹ میں مرلن مینسن کو بطور معاون فنکار شامل کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد مداحوں کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے اور شو کا بائیکاٹ کرنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔
مشہور ہیوی میٹل بینڈ سلپ ناٹ کے برطانوی مداحوں نے لندن میں ہونے والے ایک آنے والے شو کا بائیکاٹ کرنے کی دھمکی دی ہے۔ یہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب بینڈ کی جانب سے یہ اعلان کیا گیا کہ معروف امریکی راک موسیقار مرلن مینسن ان کے اس خصوصی کنسرٹ میں معاون فنکار کے طور پر پرفارم کریں گے۔ اس خبر کے سامنے آتے ہی مداحوں کے حلقوں میں شدید بے چینی اور غصے کی لہر دوڑ گئی ہے، اور سوشل میڈیا پر اس فیصلے کے خلاف سخت آراء کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
مرلن مینسن ماضی میں متعدد سنگین الزامات اور تنازعات کی زد میں رہے ہیں، جس کی وجہ سے فنکار برادری اور مداحوں کا ایک بڑا طبقہ ان کے ساتھ کام کرنے والوں کو بھی تنقید کا نشانہ بناتا ہے۔ سلپ ناٹ کے کئی پرانے اور وفادار مداحوں کا ماننا ہے کہ ایسے متنازعہ موسیقار کو اپنے پلیٹ فارم پر جگہ دینا بینڈ کی ساکھ کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے منتظمین سے مطالبہ کیا ہے کہ اس فیصلے پر نظر ثانی کی جائے ورنہ وہ اس بڑے شو کا بائیکاٹ کرنے پر مجبور ہوں گے۔
ابھی تک سلپ ناٹ کی انتظامیہ یا بینڈ کے اراکین کی طرف سے مداحوں کی اس بائیکاٹ کی دھمکی پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم، لندن میں ہونے والا یہ شو پہلے ہی سے کافی توجہ کا مرکز بن چکا ہے اور ٹکٹوں کی فروخت کے ساتھ ساتھ اس تنازعے نے بھی میڈیا کی توجہ حاصل کر لی ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اگر انتظامیہ نے مداحوں کے تحفظات کو دور نہ کیا تو اس کنسرٹ کی کامیابی پر سوالیہ نشان لگ سکتا ہے۔
آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا بینڈ کے ارکان اپنے اس فیصلے پر قائم رہتے ہیں یا مداحوں کے شدید دباؤ کے سامنے झुकتے ہوئے مرلن مینسن کو اس شو سے ہٹانے کا کوئی فیصلہ کرتے ہیں۔ دریں اثنا، موسیقی کے حلقوں میں یہ بحث ایک بار پھر چھڑ گئی ہے کہ آیا متنازعہ شخصیات کو بڑے عوامی پلیٹ فارمز پر مواقع ملنے چاہئیں یا نہیں۔