LIVE
Loading Breaking News...

الڈی باس کا بیان: حریفوں کے لائلٹی ڈسکاؤنٹس صارفین کے ساتھ دھوکہ

News Image
الڈی کے اعلیٰ ترین عہدیدار نے الزام عائد کیا ہے کہ دوسری بڑی سپر مارکیٹ چینز کی لائلٹی ڈسکاؤنٹ اسکیمیں دراصل صارفین کو فریب دینے کا ایک ذریعہ ہیں۔ برطانوی ریٹیل مارکیٹ میں الڈی واحد بڑا برانڈ ہے جو اس طرح کے کسی بھی لائلٹی پروگرام کے بغیر کاروبار کر رہا ہے۔
برطانیہ کے ریٹیل سیکٹر میں ایک نئی بحث کا آغاز ہو چکا ہے جہاں معروف ڈسکاؤنٹ سپر مارکیٹ چین الڈی کے سربراہ نے اپنے حریفاداروں پر سخت تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دیگر بڑی سپر مارکیٹ چینز کی جانب سے چلائی جانے والی لائلٹی ڈسکاؤنٹ اسکیمیں درحقیقت صارفین کو دھوکہ دینے کے مترادف ہیں۔ الڈی کا مؤقف ہے کہ یہ اسکیمیں بظاہر صارفین کو بچت کا تاثر دیتی ہیں لیکن ان کے پیچھے پیچیدہ تجارتی ہتھکنڈے چھپے ہوتے ہیں جو خریداری کے اصل نرخوں کو مبہم بناتے ہیں۔ واضح رہے کہ الڈی برطانیہ کی وہ واحد بڑی سپر مارکیٹ چین ہے جو کسی بھی قسم کی لائلٹی اسکیم یا ممبرشپ کارڈ کا نظام نہیں چلاتی۔ اس کے باوجود لاکھوں خریدار روزمرہ کی خریداری کے لیے اس برانڈ کا رخ کرتے ہیں۔ الڈی کی پالیسی ہمیشہ سے تمام خریداروں کے لیے یکساں اور کم ترین قیمتیں پیش کرنے کی رہی ہے، قطع نظر اس کے کہ گاہک کے پاس کوئی خصوصی کارڈ ہے یا نہیں۔ اس کے برعکس، دیگر بڑی سپر مارکیٹس اپنے صارفین کو کارڈ ہولڈر اور عام خریدار کی بنیاد پر مختلف قیمتیں دکھاتی ہیں۔ صارفین کے حقوق کے بعض ادارے اور ماہرینِ معاشیات بھی اس بات پر بحث کرتے رہے ہیں کہ لائلٹی پرائسنگ کی وجہ سے مارکیٹ میں غیر شفافیت پیدا ہوتی ہے۔ جب خریداروں کو کسی خاص ایپ یا کارڈ کے ذریعے ہی رعایت ملتی ہے، تو وہ اس بات کا اندازہ لگانے سے قاصر رہتے ہیں کہ آیا وہ واقعی کوئی سستی چیز خرید رہے ہیں یا مارکیٹ میں عمومی قیمتیں پہلے ہی بڑھائی جا چکی ہیں۔ الڈی کی جانب سے اس مؤقف کے اعادہ کے بعد اب دیگر سپر مارکیٹس کی پالیسیوں پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اس تمام صورتحال میں الڈی کا یہ منفرد کاروباری ماڈل ان کے لیے ایک نمایاں امتیازی خصوصیت بن چکا ہے۔ جہاں ایک طرف پوری انڈسٹری صارفین کا ڈیٹا اکٹھا کرنے اور لائلٹی پروگرامز کے ذریعے انہیں باندھنے کی کوشش کر رہی ہے، وہیں الڈی کی سادگی اور شفاف قیمتوں کا وعدہ صارفین کو اپنی طرف کھینچ رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا دیگر ریٹیلرز اس تنقید کے بعد اپنی قیمتوں کے نظام میں کوئی تبدیلی لاتے ہیں یا نہیں۔