LIVE
Loading Breaking News...

روسی وزیر خارجہ کا برطانیہ کے مستقبل پر تبصرہ اور ویلز کا ردعمل

News Image
روسی وزیر خارجہ نے ایک بیان میں سوال اٹھایا ہے کہ برطانیہ اور سیلٹک قوموں کا مستقبل کیا ہوگا۔ دوسری جانب ویلش سیاسی جماعت پلائیڈ سائمروم نے واضح کیا ہے کہ ویلز کا مستقبل کسی دوسرے ملک کی مرضی کا محتاج نہیں۔
روسی وزیر خارجہ کی جانب سے حال ہی میں ایک ایسا بیان سامنے آیا ہے جس نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھڑا دی ہے۔ اپنے ایک بیان میں روسی وزیر خارجہ نے سوال اٹھایا ہے کہ آنے والے وقت میں برطانیہ اور سیلٹک قوموں کا کیا انجام ہوگا اور ان کا مستقبل کس سمت جائے گا۔ اس بیان کے بعد بین الاقوامی سطح پر مختلف آراء کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ روس کی جانب سے اس قسم کے تبصرے عموماً مغربی ممالک کے اندرونی سیاسی اور علاقائی تنازعات کو ہوا دینے کے طور پر دیکھے جاتے ہیں۔ روسی وزیر خارجہ کے اس بیان کے فورا بعد ویلز کی معروف سیاسی جماعت 'پلائیڈ سائمروم' (Plaid Cymru) نے انتہائی سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ جماعت کے ترجمان نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ ویلز کا مستقبل اور اس کی سیاسی سمت کا تعین کرنا کرملین کا کام نہیں ہے اور نہ ہی روس کو اس بات کا حق حاصل ہے کہ وہ اس معاملے کی توثیق کرے، اس کی مخالفت کرے یا اس پر سیاست چمٹائے۔ ویلش رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ویلز کے عوام اپنے فیصلے خود کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں اور کسی بیرونی طاقت کو ان کے اندرونی امور میں مداخلت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ماہرین کے مطابق روس اور مغربی ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں اس قسم کے بیانات دراصل سفارتی دباؤ بڑھانے کی ایک حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ برطانیہ اور اس کے اتحادی پہلے ہی مختلف بین الاقوامی محاذوں پر روس کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیے ہوئے ہیں، اور ماسکو کی طرف سے برطانوی یونٹ کے اندرونی جغرافیائی و علاقائی توازن پر سوال اٹھانا اسی کشیدگی کی ایک نئی کڑی سمجھا جا رہا ہے۔ دوسری جانب ویلش قوم پرستوں کا یہ دوٹوک مؤقف اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ علاقائی سیاست میں مقامی سیاسی جماعتیں کسی بھی بیرونی طاقت کی مداخلت کو مسترد کرتی ہیں۔ پلائیڈ سائمروم کے اس جوابی بیان کو برطانیہ کے اندر اور باہر خاصی اہمیت دی جا رہی ہے کیونکہ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ویلز کے مستقبل کے فیصلے صرف اور صرف وہاں کے عوام اور ان کے منتخب نمائندوں کا استحقاق ہیں۔