LIVE
Loading Breaking News...

ایران میں بغیر حجاب پرفارم کرنے والی گلوکارہ کو کوڑوں کی سزا

News Image
ایران کی ایک عدالت نے لائیو اسٹریم کنسرٹ کے دوران بغیر حجاب اور آستین کے لباس میں پرفارم کرنے والی گلوکارہ پرستو احمدی کی کوڑوں کی سزا برقرار رکھی ہے۔ عدالت نے انہیں پبلک ڈیسنسی کو نقصان پہنچانے کے جرم میں سزا سنائی ہے۔
ایران کی ایک عدالت نے ملک کے سخت قوانین کے خلاف ورزی کرتے ہوئے بغیر حجاب اور نامناسب لباس میں پرفارم کرنے والی معروف گلوکارہ پرستو احمدی کی کوڑوں کی سزا کو برقرار رکھا ہے۔ عدالتی فیصلوں کے مطابق گلوکارہ کو یہ سزا ایک لائیو اسٹریم کنسرٹ کے دوران دی گئی پرفارمنس پر سنائی گئی ہے جس میں انہوں نے مبینہ طور پر عوامی شائستگی کے اصولوں کی خلاف ورزی کی تھی۔ پرستو احمدی پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے ایک آن لائن لائیو کنسرٹ کے دوران بغیر حجاب کے اور سلیو لیس (بغیر آستین کے) لباس پہن کر گانے پیش کیے۔ ایرانی حکام کے مطابق اس اقدام سے ملک کے مروجہ اخلاقی ضابطوں اور پبلک ڈیسنسی کو نقصان پہنچا ہے۔ عدالت کی جانب سے سزا کی توثیق کے بعد اس معاملے نے بین الاقوامی سطح پر بھی انسانی حقوق کی تنظیموں کی توجہ حاصل کر لی ہے۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران میں خواتین کے لیے لباس کے قوانین اور حجاب کے نفاذ کے حوالے سے پہلے ہی سخت گیر موقف پایا جاتا ہے۔ حالیہ برسوں کے دوران ملک میں قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی فنکار خواتین کے خلاف عدالتی کارروائیوں میں تیزی آئی ہے، جس پر اندرون اور بیرون ملک سے مسلسل تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے ایرانی معاشرے میں فنکاروں اور گلوکاروں پر دباؤ مزید بڑھ جائے گا۔ دوسری جانب، انسانی حقوق کے کارکنوں نے اس سزا کو آزادی اظہار اور خواتین کے بنیادی حقوق کی سنگین پامالی قرار دیا ہے، تاہم ایرانی عدالتی نظام کے تحت اس فیصلے پر عمل درآمد کا سلسلہ جاری ہے۔