World
لییتھیم آئن بیٹری میں آگ لگنے کا واقعہ، ماں اور تین بچے جاں بحق
برطانیہ کے علاقے بوٹل میں ایک ہولناک آتشزدگی کے نتیجے میں 36 سالہ ماں اور اس کے تین بچے جاں بحق ہو گئے ہیں۔ حادثے کی ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ آتشزدگی لییتھیم آئن بیٹری کی وجہ سے لگی تھی۔
برطانیہ کے علاقے بوٹل، مرسی سائیڈ میں ایک انتہائی دلخراش حادثہ پیش آیا ہے جہاں گھر میں لگنے والی شدید آگ کے نتیجے میں 36 سالہ ماں اور اس کے تین بچے جان کی بازی ہار گئے۔ پولیس اور فائر بریگیڈ کے حکام کی جانب سے کی جانے والی ابتدائی تحقیقات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اس ہولناک آتشزدگی کی بنیادی وجہ ایک لییتھیم آئن بیٹری کا پھٹنا تھی۔ اس ناگہانی حادثے نے علاقے میں سوگ کی فضا قائم کر دی ہے اور ماہرین نے الیکٹرانک آلات میں استعمال ہونے والی ان بیٹریوں کے حوالے سے حفاظتی تدابیر پر ایک بار پھر سوالات اٹھانا شروع کر دیے ہیں۔
متوفیہ خاتون کی شناخت 36 سالہ علیشہ برابن کے طور پر ہوئی ہے، جو اپنے تین بچوں کے ساتھ اس گھر میں مقیش تھیں۔ فائر فائٹرز کو جب واقعے کی اطلاع ملی تو وہ فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچے اور آگ پر قابو پانے کی بھرپور کوشش کی، تاہم گھر کے اندر موجود افراد کو بچایا نہ جا سکا۔ امدادی ٹیموں کے مطابق آگ اتنی تیزی سے پھیلی کہ گھر میں موجود افراد کو سنبھلنے کا موقع ہی نہیں ملا۔ تفتیشی حکام نے فرانزک شواہد اکٹھے کرنے کے بعد تصدیق کی ہے کہ حادثہ کسی اور بیرونی وجہ سے نہیں بلکہ گھر کے اندر موجود لییتھیم آئن بیٹری کے فیل ہونے یا شارٹ سرکٹ کی وجہ سے رونما ہوا۔
اس واقعے کے بعد برطانوی حکام اور فائر سیفٹی اداروں نے عوام کے لیے ایک بار پھر اہم انتباہ جاری کیا ہے جس میں شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ موبائل فونز، اسکوٹرز اور دیگر الیکٹرانک آلات میں استعمال ہونے والی لییتھیم آئن بیٹریاں چارج کرتے وقت انتہائی احتیاط برتیں۔ غیر معیاری چارجرز کا استعمال اور بیٹریوں کو زیادہ دیر تک چارجنگ پر چھوڑنا اس طرح کے جان لیوا حادثات کا سبب بن سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے الیکٹرانک آلات کا استعمال بڑھ رہا ہے، بیٹریوں کے پھٹنے کے خطرات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، اور اس حوالے سے گھروں میں سگریٹ، بیٹری اور فائر سیفٹی کے اصولوں پر سختی سے عمل درآمد کرنے کی اشد ضرورت ہے۔