World
سلووینیا کی اسرائیل پالیسی میں تبدیلی، نیتن یاہو سے ملاقات کے اثرات
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کی سائیڈ لائنز پر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے ملاقات کے بعد سلووینیا کے مؤقف میں ڈرامائی تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔ اس اہم سفارتی پیش رفت نے فلسطین اور اسرائیل کے تنازع پر یورپی سیاست میں نئی بحث چھڑ دی ہے۔
یورپی ملک سلووینیا کی خارجہ پالیسی میں فلسطین اور اسرائیل کے تنازع کے حوالے سے ایک نمایاں اور غیر متوقع تبدیلی سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ یوٹرن اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران ہونے والی ایک اہم سفارتی ملاقات کے بعد لیا گیا ہے۔ یو این جی اے کی سائیڈ لائنز پر سلووینیا کے نمائندگان کی اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ براہ راست ملاقات ہوئی تھی جس نے دونوں ممالک کے باہمی تعلقات اور علاقائی مؤقف پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ اس ملاقات کے بعد سے سلووینیا کے روایتی مؤقف میں نرمی اور اسرائیلی مؤقف کی طرف جھکاؤ واضح طور پر محسوس کیا جا رہا ہے، جس نے بین الاقوامی اور یورپی سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کے اندر پہلے ہی مشرق وسطیٰ کے بحران پر مختلف آراء پائی جاتی ہیں، اور سلووینیا کا یہ نیا موڑ یورپی یونین کے مجموعی اتحاد کے لیے بھی ایک چیلنج بن سکتا ہے۔ اس سے قبل سلووینیا نے فلسطین کے حوالے سے کئی ایسے اقدامات کی حمایت کی تھی جو اسرائیل کو ناپسند تھے، لیکن حالیہ سفارتی رابطوں نے اس پالیسی کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کار اس پیش رفت کو ایک طویل المدتی حکمت عملی کا حصہ قرار دے رہے ہیں جس کا مقصد اسرائیل کے ساتھ تجارتی اور سفارتی تعلقات کو مزید مستحکم کرنا ہے۔ آنے والے دنوں میں سلووینیا کے اس نئے مؤقف کے خطے کی سیاست پر مزید اثرات مرتب ہونے کی توقع کی جا رہی ہے، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں اس تبدیلی پر گہری تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔