Pakistan
مسلم لیگ ن کا خیبر پختونخوا میں بدتر گورننس پر وائٹ پیپر
مسلم لیگ ن کے خیبر پختونخوا باب نے صوبائی حکومت کی ناقص کارکردگی اور بدترین گورننس پر ایک تفصیلی وائٹ پیپر جاری کر دیا ہے۔ دوسری جانب وفاقی وزراء نے صوبائی حکومت کی انسداد دہشت گردی کی کوششوں اور افغان پالیسی پر شدید تنقید کی ہے۔
پشاور (نیکسو را نیوز اردو) پاکستان مسلم لیگ ن (پی ایم ایل این) خیبر پختونخوا کے شعبے نے صوبے میں مبینہ بدتر گورننس اور انتظامی ناکامیوں کو بے نقاب کرتے ہوئے ایک جامع وائٹ پیپر جاری کر دیا ہے۔ اس وائٹ پیپر میں صوبائی حکومت کی گزشتہ مدت کے دوران فنڈز کے مبینہ غلط استعمال، ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر اور عوامی مسائل کے حل میں ناکامی کو تفصیلی اعداد و شمار کے ساتھ اجاگر کیا گیا ہے۔ مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ صوبے کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی میں موجودہ صوبائی انتظامیہ مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور صرف سیاسی نعرے بازی سے صوبے کے مسائل حل نہیں کیے جا سکتے۔
اس پیش رفت کے ساتھ ہی اسلام آباد میں وفاقی وزراء کی جانب سے خیبر پختونخوا حکومت کی انسداد دہشت گردی کی کوششوں اور افغان پالیسی پر بھی شدید تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔ وفاقی وزراء کا مؤقف ہے کہ صوبائی حکومت کو امن و امان کی سنگین صورتحال پر سیاست کرنے کے بجائے وفاق کے ساتھ مل کر مؤثر حکمت عملی اپنانی چاہیے۔ وزراء نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کسی قسم کی غفلت یا سیاسی پوائنٹ اسکورنگ ملک اور صوبے کے مفاد میں نہیں ہے، اس لیے تمام اکائیوں کو ایک ہی پیج پر آنا ہوگا۔
دوسری جانب، خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور نے تمام الزامات اور دھمکیوں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انتہائی سخت اور باغیانہ موقف اختیار کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت کسی بھی دباؤ میں نہیں آئے گی اور اپنے عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے ڈٹی رہے گی۔ وزیراعلیٰ نے صوبے کی افغان پالیسی اور سیکیورٹی اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت صوبے کے امن کے لیے ہر ممکن قدم اٹھاتی رہے گی اور اسلام آباد کی جانب سے کسی بھی غیر منصفانہ دباؤ کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، وفاق اور خیبر پختونخوا حکومت کے درمیان جاری یہ لفظی جنگ آنے والے دنوں میں مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔ صوبائی سطح پر مسلم لیگ ن کے وائٹ پیپر کے اجراء اور وفاقی وزراء کی تنقید نے صوبے کی سیاسی فضا کو گرما دیا ہے، جبکہ دوسری طرف وزیراعلیٰ کا جارحانہ مؤقف اس بات کا اشارہ ہے کہ دونوں اطراف سے مفاہمت کی راہ نکالنا فی الحال انتہائی مشکل نظر آتا ہے۔ عوام اس تمام صورتحال میں شدید پریشانی کا شکار ہیں کیونکہ اس سیاسی کشمکش کا براہ راست اثر صوبے کی ترقی اور عام آدمی کے مسائل پر پڑ رہا ہے۔