LIVE
Loading Breaking News...

متحدہ عرب امارات کا خطے میں سفارت کاری اور امن پر زور

News Image
متحدہ عرب امارات نے عالمی فورمز پر علاقائی تنازعات کے حل کے لیے سفارت کاری اور بات چیت کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ اماراتی قیادت نے غزہ، سوڈان اور یوکرین کے بحرانوں کے تناظر میں خطے میں کشیدگی کم کرنے کی اپیل کی ہے۔
متحدہ عرب امارات نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ خطے میں جاری تنازعات کو حل کرنے کے لیے عسکری راستے چھوڑ کر سفارت کاری اور پرامن بات چیت کا راستہ اختیار کرے۔ نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر اماراتی رہنماؤں اور وزرائے خارجہ کی ملاقاتوں کے دوران اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ خطے میں پائیدار امن و استحکام صرف باہم مشاورت اور سفارتی کوششوں کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ اماراتی حکام نے اس بات پر خصوصی توجہ دلائی کہ دنیا بھر میں جاری کشیدگی، بشمول غزہ کی صورتحال، سوڈان کی خانہ جنگی اور یوکرین کے تنازع، نے عالمی معیشت اور انسانی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ اجلاس کے دوران متحدہ عرب امارات نے آبنائے ہرمز اور دیگر اہم سمندری گزرگاہوں میں بحری جہازوں کی آزادانہ اور محفوظ نقل و حرکت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ اماراتی نمائندگان کا کہنا تھا کہ عالمی تجارت اور توانائی کی فراہمی کے تسلسل کے لیے سمندری راستوں کا محفوظ رہنا ناگزیر ہے، اور کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا تاکہ کسی بھی بڑے بحران کو روکا جا سکے۔ مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ اور اعلیٰ حکام کے ساتھ ہونے والی دو طرفہ ملاقاتوں میں شیخ عبداللہ بن زاید اور دیگر اماراتی شخصیات نے علاقائی تعاون کو فروغ دینے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔ ان ملاقاتوں کا بنیادی مقصد دنیا کو درپیش چیلنجز بالخصوص مشرق وسطیٰ کے دیرینہ مسائل کا منصفانہ حل تلاش کرنا تھا۔ متحدہ عرب امارات نے ہمیشہ علاقائی امن، رواداری اور اقتصادی ترقی کو ترجیح دی ہے اور وہ تنازعات کے حل کے لیے ہمیشہ ثالثی کے کردار کے لیے تیار رہا ہے۔ عالمی رہنماؤں نے اماراتی موقف کی تحسین کرتے ہوئے اس بات سے اتفاق کیا کہ موجودہ عالمی حالات میں محاذ آرائی کی بجائے تعاون کی فضا قائم کرنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ یو اے ای نے عالمی اداروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا تاکہ جنگ زدہ علاقوں میں انسانی امداد کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے اور متاثرہ آبادیوں کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔