Business
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ، مشرق وسطیٰ کی کشیدگی
مشرق وسطیٰ میں رسد کے حوالے سے بڑھتے ہوئے خدشات اور امریکہ و ایران کے درمیان مذاکرات میں تعطل کے باعث تیل کی قیمتوں میں مسلسل دوسرے روز بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی تجاویز کو مسترد کرنے اور خلیجی خطے سے رسد کے مسائل کے پیش نظر عالمی منڈی میں ہلچل جاری ہے۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل دوسرے سیشن کے دوران معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے جس کی بنیادی وجہ مشرق وسطیٰ میں رسد کے حوالے سے پائے جانے والے شدید خدشات ہیں۔ خبر رساں اداروں کے مطابق حالیہ دنوں میں سیاسی کشیدگی اور جغرافیائی سیاسی صورتحال کے پیش نظر تیل کی تجارت متاثر ہو رہی ہے جس سے قیمتوں پر اوپر کی جانب دباؤ برقرار ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی جانب سے پیش کی جانے والی تجاویز کو مسترد کیے جانے کے بعد مارکیٹ کے اندر بے یقینی کی فضا مزید گہری ہو گئی ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے مبینہ مذاکرات میں تعطل اور ڈیڈ لاک کے بعد تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ خلیجی خطے سے تیل کی برآمدات اور رسد کا نظام خطرات کی زد میں آ سکتا ہے۔ ڈبلیو ٹی آئی (WTI) خام تیل کے نرخ بھی 92 ڈالر فی بیرل سے اوپر ٹریڈ کرتے دکھائی دیے ہیں کیونکہ سرمایہ کار خطے میں کسی بھی ممکنہ فوجی یا تجارتی تصادم کے اثرات کا تخمینہ لگا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ خلیجی علاقوں سے کچھ کروڈ آئل کی ترسیل بحال ہوئی ہے تاہم مجموعی طور پر تناؤ برقرار رہنے کے باعث قیمتیں تیزی سے نیچے آنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
دوسری جانب قدرتی گیس اور تیل کی مستقبل کی پیشگوئیوں میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ جب تک تہران اور واشنگٹن کے تعلقات میں بہتری نہیں آتی اور سفارتی سطح پر کوئی مثبت پیشرفت نہیں ہوتی، اس وقت تک توانائی کی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ سرمایہ کار اور کاروباری حلقے اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ کسی بھی اچانک تبدیلی سے نمٹا جا سکے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں بھی تیل کی قیمتیں مشرق وسطیٰ کے حالات کے تابع رہیں گی۔