LIVE
Loading Breaking News...

انگلش چینل پر مہاجرین کی نقل و حرکت اور خطرناک راستے

News Image
حکومت کا کہنا ہے کہ وہ خطرناک چھوٹی کشتیوں کے ذریعے ہونے والے غیر قانونی سمندری سفر کو سختی سے روکنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ اس صورتحال کے باوجود، مہاجرین اب بھی برطانوی سرحدوں تک پہنچنے کے لیے انتہائی طویل اور جان لیوا متبادل راستوں کا انتخاب کرنے پر مجبور ہیں۔
برطانوی حکومت کی جانب سے یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ وہ ملک میں غیر قانونی داخلے اور خطرناک چھوٹی کشتیوں کے ذریعے ہونے والے سمندری سفر کو لگاتار نکیل ڈال رہی ہے۔ حکارتی سطح پر اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے جا رہے ہیں تاکہ ایسے تمام غیر قانونی اقدامات کی حوصلہ شکنی کی جا سکے جو انسانی جانوں کے لیے خطرہ بنتے ہیں۔ تاہم، زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ ان حکومتی کوششوں کے باوجود مہاجرین کے رویے میں تبدیلی آئی ہے اور وہ اب انگلش چینل کو عبور کرنے کے لیے کہیں زیادہ طویل اور خطرناک ترین راستوں کا انتخاب کر رہے ہیں۔ اپنی منزل مقصود تک پہنچنے کی شدید خواہش اور مجبوری کے تحت یہ افراد سیکیورٹی اداروں کی نظروں سے بچنے کے لیے نئے اور پُرخطر سمندری کوریڈورز استعمال کر رہے ہیں، جس سے ان کی جانوں کو لاحق خطرات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ ماہرین اور امدادی تنظیموں کا ماننا ہے کہ صرف روایتی رکاوٹیں کھڑی کرنے یا سخت گیر پالیسیاں اپنانے سے اس بحران کا پائیدار حل نکالنا ممکن نہیں ہوگا۔ مہاجرین کی بڑھتی ہوئی لہر اور ان کے اس طرح کے انتہائی اقدامات اس بات کا غماز ہیں کہ اس مسئلے کی جڑیں بہت گہری ہیں، جن کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی سطح پر مربوط اور جامع حکمت عملی کی اشد ضرورت ہے۔