Business
سیلاب کے خطرات اور انشورنس کا بحران: ایوِوا کی وارننگ
برطانوی انشورنس کمپنی ایوِوا کی سربراہ امانڈا بلانک نے خبردار کیا ہے کہ انگلینڈ میں ایسے مقامات پر گھر تعمیر کیے جا رہے ہیں جو مستقبل میں انشورنس کے قابل نہیں رہیں گے۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلی اور سیلاب کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر ہاؤسنگ پالیسیوں پر نظرثانی کی شدید ضرورت پر زور دیا ہے۔
برطانیہ کی معروف انشورنس کمپنی ایوِوا (Aviva) کی چیف ایگزیکٹو امانڈا بلانک نے ایک اہم بیان میں خبردار کیا ہے کہ انگلینڈ میں ایسے گھروں کی تعمیر کا سلسلہ جاری ہے جو مستقبل میں بیمہ (Insurance) کے قابل نہیں رہیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں سیلاب اور دیگر موسمیاتی خطرات کی زد میں آنے والے علاقوں میں رہائشی منصوبے بنانے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ آنے والے برسوں میں ان املاک کا احاطہ کرنا انشورنس کمپنیوں کے لیے انتہائی مشکل یا ناممکن ہو جائے گا۔ امانڈا بلانک نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ ہاؤسنگ سیکٹر اور حکومت کو فوری طور پر ان مسائل پر توجہ دینی ہوگی۔
حالیہ برسوں کے دوران دنیا بھر کی طرح برطانیہ میں بھی شدید بارشوں اور سیلابی ریلوں کے واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف عام شہریوں بلکہ مالیاتی اور انشورنس کے شعبے سے وابستہ افراد کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر تعمیراتی منصوبوں کی منصوبہ بندی کے دوران موسمیاتی تبدیلیوں اور ان کے ممکنہ اثرات کو مدنظر نہ رکھا گیا تو آنے والے وقتوں میں پراپرٹی مالکان کو شدید مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ایوِوا کی سربراہ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت اور مقامی انتظامیہ پر ہاؤسنگ کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے کے لیے نئے گھر بنانے کا دباؤ ہے۔ تاہم، انشورنس انڈسٹری کی جانب سے بارہا یہ مؤقف اپنایا گیا ہے کہ خطرناک علاقوں میں تعمیرات کی اجازت دینا دراصل ایک طویل مدتی بحران کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ اس انتباہ کے بعد اب توقع کی جا رہی ہے کہ پالیسی ساز اور تعمیراتی ادارے اس سنگین مسئلے پر سنجیدگی سے غور کریں گے تاکہ مستقبل کے معاشی اور ماحولیاتی بحرانوں سے بچا جا سکے۔