LIVE
Loading Breaking News...

سوشل میڈیا کنٹینٹ کریویشن ڈگری: کیا تیس ہزار پاؤنڈ کی سرمایہ کاری درست ہے؟

News Image
برطانوی یونیورسٹیز سوشل میڈیا پر شہرت اور دولت کمانے کے لیے مہنگے کورسز متعارف کرا رہی ہیں۔ طلباء اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ آیا تیس ہزار پاؤنڈ کی اس ڈگری سے عملی فائدہ ہو گا یا نہیں۔
آج کے اس دور میں سوشل میڈیا محض تفریح کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ یہ باضابطہ طور پر ایک منافع بخش پیشے کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ اس پس منظر میں دنیا بھر بالخصوص برطانیہ کی کئی یونیورسٹیز نے کنٹینٹ کریویشن یعنی مواد کی تخلیق سے متعلق باقاعدہ ڈگریاں متعارف کرائی ہیں جن کی مالیت تقریباً تیس ہزار پاؤنڈ تک ہے۔ ان تعلیمی پروگرامز کا بنیادی مقصد طلباء کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اپنی موجودگی مؤثر بنانے، ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے اصول سکھانے اور اس کے ذریعے معقول آمدنی حاصل کرنے کے گر سکھانا ہے۔ تاہم تعلیمی اور پروفیشنل حلقوں میں اس حوالے سے ایک شدید بحث چھڑی ہوئی ہے کہ آیا اس نوعیت کے مہنگے کورسز پر اتنی بڑی رقم خرچ کرنا واقعی عقلمندی کا فیصلہ ہے یا نہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یوٹیوب، ٹک ٹاک اور انسٹاگرام جیسے پلیٹ فارمز پر کامیابی حاصل کرنے کے لیے عملی تجربہ، تخلیقی صلاحیت اور مسلسل محنت زیادہ اہمیت رکھتی ہے جس کے لیے کسی بھاری بھرکم یونیورسٹی ڈگری کی ہرگز ضرورت نہیں ہوتی۔ دوسری طرف حامیوں کا مؤقف ہے کہ یہ ڈگریاں طلباء کو ڈیجیٹل بزنس، کاپی رائٹنگ، برانڈنگ اور میڈیا ایتھکس کی باقاعدہ اور سائنسی بنیادوں پر تعلیم دیتی ہیں جو طویل مدت میں ان کے کیریئر کو مستحکم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔ موجودہ ڈیجیٹل معیشت میں جہاں ہزاروں نوجوان سوشل میڈیا انفلوئنسر بننے کی دوڑ میں شامل ہیں، تعلیمی اداروں کا اس شعبے کو نصاب کا حصہ بنانا ایک اہم تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔ والدین اور طلباء کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو رہا ہے کہ روایتی ڈگریوں کو چھوڑ کر اس نئے اور غیر یقینی شعبے کا انتخاب کیا جائے یا نہیں۔ آنے والا وقت ہی یہ طے کرے گا کہ مارکیٹ ان گریجویٹس کو کتنی پذیرائی دیتی ہے اور کیا یہ تعلیمی سرمایہ کاری اپنے ثمرات لاتی ہے یا نہیں۔