Sports
این ایف ایل کا ہوم لینڈ سیکیورٹی سے برائن ڈاکنز کی ویڈیو ہٹانے کا مطالبہ
نیشنل فٹ بال لیگ (این ایف ایل) نے امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی سے ایک متنازع ویڈیو ہٹانے کی باضابطہ درخواست کی ہے۔ اس ویڈیو میں ہال آف فیم کے سابق کھلاڑی برائن ڈاکنز کو بارڈر سیکیورٹی کی تیاریوں کو دکھانے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔
نیشنل فٹ بال لیگ (این ایف ایل) نے امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی سے ایک پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے ایک اشتہار یا ویڈیو کو فوری طور پر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے ہٹا لیں۔ اس متنازع ویڈیو میں ہال آف فیم کے نامور سابق فٹ بال کھلاڑی برائن ڈاکنز کی فوٹیج کو استعمال کیا گیا تھا تاکہ سرحد کی حفاظت اور سیکیورٹی کی تیاریوں کے حوالے سے سرکاری مؤقف کو اجاگر کیا جا سکے۔ این ایف ایل کی جانب سے اٹھائے جانے والے اس قدم نے کھیلوں اور سرکاری اداروں کے تعلقات کے حوالے سے نئی بحث چھوٹی ہے۔
ذرائع کے مطابق محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے یہ ویڈیو سرحدی محافظوں کی صلاحیتوں اور ملک کی سیکیورٹی کے حوالے سے تیاریوں کو ظاہر کرنے کے لیے بنائی تھی۔ اس ویڈیو میں برائن ڈاکنز کے پرجوش انداز اور ان کے ماضی کے مشہور لمحات کو اس طرح پیش کیا گیا تھا جو کہ ایک عسکری یا حفاظتی مہم کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔ تاہم، لیگ کی انتظامیہ کا ماننا ہے کہ اس طرح کھلاڑیوں کی تصاویر یا ویڈیوز کا سرکاری یا سیاسی نوعیت کی مہمات کے لیے استعمال ضابطے کے خلاف ہے اور اس پر مناسب پیشگی اجازت لی جانی چاہیے تھی۔
کھیلوں کے حلقوں میں اس معاملے پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے جہاں کچھ ماہرین این ایف ایل کے مؤقف کو درست قرار دے رہے ہیں تو وہیں کچھ کا کہنا ہے کہ یہ قومی سلامتی سے جڑا ایک عام معلوماتی اقدام تھا۔ دوسری جانب برائن ڈاکنز یا ان کے نمائندوں کی طرف سے اس معاملے پر فی الحال کوئی حتمی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔ این ایف ایل حکام کا اصرار ہے کہ کھیل کو سیاسی یا حکومتی بارڈر پالیسیوں سے الگ رکھا جانا چاہیے تاکہ شائقین کے درمیان غیر جانبداری کا تاثر برقرار رہے۔
امریکہ کے سرکاری محکموں کی جانب سے اس درخواست پر تحال کوئی رسمی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے لیکن توقع کی جارہی ہے کہ محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی جلد ہی اس ویڈیو کا جائزہ لے کر اسے ہٹانے یا اس میں ترمیم کرنے سے متعلق حتمی فیصلہ کرے گا۔ این ایف ایل کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے کھلاڑیوں کے حقوق اور لیگ کے قوانین کی پاسداری کے لیے ہر ممکن قدم اٹھاتے رہیں گے تاکہ اس طرح کے تنازعات سے بچا جا سکے۔