LIVE
Loading Breaking News...

جولیو ریجینی قتل کیس: اطالوی عدالت کا تین مصری ایجنٹس کو سزائیں

News Image
اٹلی کی ایک عدالت نے 2016ء میں کیمبرج یونیورسٹی کے محقق جولیو ریجینی کے ہلاکت خیز اغوا کیس میں تین مصری انٹیلی جنس ایجنٹس کو غیابی طور پر دس دس سال قید کی سزا سنا دی ہے۔ یہ فیصلہ دونوں ملکوں کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی اور انصاف کے حصول کی کوششوں میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
اطسلی کے دارالحکومت روم میں واقع ایک عدالت نے سنہ 2016ء میں کیمبرج یونیورسٹی کے اطالوی محقق اور طالب علم جولیو ریجینی کے ہلاکت خیز اغوا اور بہیمانہ تشدد کے کیس میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے تین مصری انٹیلی جنس ایجنٹس کو غیابی طور پر دس دس سال قید کی سزا سنائی ہے۔ اس فیصلے کو بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کے حلقوں کی جانب سے سراہا جا رہا ہے جبکہ اس سے روم اور قاہرہ کے تعلقات میں مزید تناؤ پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ جولیو ریجینی قاہرہ میں اپنی ڈاکٹریٹ کی تحقیق کے سلسلے میں مقیم تھے جب جنوری 2016ء میں وہ اچانک پراسرار طور پر لاپتہ ہو گئے تھے۔ چند روز بعد ان کی مسخ شدہ اور تشدد زدہ لاش قاہرہ کے قریب شاہراہ سے برآمد ہوئی تھی جس پر عالمی سطح پر شدید غم و غصہ پایا گیا تھا اور مصر کی سکیورٹی فورسز پر اس قتل میں ملوث ہونے کے سنگین الزامات عائد کیے گئے تھے۔ اطالوی استغاثہ نے طویل عرصے تک اس معاملے کی تحقیقات کیں اور شواہد اکٹھے کیے جن کے بعد مقدمہ چلایا گیا، تاہم ملزمان کی عدم موجودگی کے باوجود عدالت نے قانون کے مطابق کارروائی مکمل کی۔ مصری حکام نے ماضی میں اس مقدمے اور الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اطالوی عدالتی کارروائی کو اپنے ملک کے داخلی معاملات میں مداخلت قرار دیا تھا، جس کی وجہ سے دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات میں کافی سرد مہری بھی دیکھنے میں آئی تھی۔ قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ ملزمان مصر میں موجود ہیں اور فی الحال ان کی اٹلی منتقلی کا کوئی فوری امکان نہیں ہے، تاہم یہ عدالتی فیصلہ متاثرہ خاندان کے لیے انصاف کی راہ میں ایک علامتی اور تاریخی کامیابی کی حیثیت رکھتا ہے جو مستقبل میں ایسے واقعات کے سدباب کے لیے بین الاقوامی سطح پر دباؤ برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوگا۔