World
میانمار فوجی فضائی حملہ رکھائن ریاست میں درجنوں ہلاک
میانمار کی فوج کی جانب سے رکھائن ریاست میں کیے جانے والے فضائی حملے کے نتیجے میں درجنوں افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس تنازعے کی وجہ سے علاقے میں تقریبا پانچ لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔
میانمار کی فوج اور مسلح باغی گروہوں کے درمیان جاری شدید لڑائی کے دوران رکھائن ریاست میں ایک ہلاکت خیز فضائی حملہ کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں درجنوں افراد لقمہ اجل بن گئے ہیں۔ مقامی ذرائع اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق اس تازہ ترین حملے نے خطے میں جاری انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے جہاں عام شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ یہ حملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب میانمار کی فوجی حکومت کو ملک کے مختلف حصوں میں مسلح باغی گروپوں کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔ رکھائن ریاست طویل عرصے سے نسلی اور سیاسی تنازعات کا شکار رہی ہے اور حالیہ مہینوں میں یہاں لڑائی کی شدت میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس تنازعے کے نتیجے میں ہونے والی گولہ باری اور فضائی کارروائیوں کی وجہ سے اب تک تقریبا پانچ لاکھ افراد اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں نے میانمار میں بڑھتے ہوئے تشدد اور شہریوں کے جانی نقصان پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ علاقائی مبصرین کا کہنا ہے کہ جنگ کے دونوں فریقین کی جانب سے بین الاقوامی انسانی قوانین کی مبینہ خلاف ورزیوں نے عام آبادی کی زندگی کو اجیرن بنا دیا ہے اور انسانی امداد کی فراہمی بھی شدیدمتاثر ہو رہی ہے۔ متاثرہ علاقوں میں خوراک، ادویات اور پینے کے صاف پانی کی قلت شدت اختیار کرتی جا رہی ہے جبکہ نقل مکانی کرنے والے افراد انتہائی کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ بین الاقوامی برادری نے میانمار کی فوج اور تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر فوجی کارروائیاں بند کریں اور شہریوں کی حفاظت کو یقینی بناتے ہوئے مذاکرات کے ذریعے سیاسی بحران کا حل تلاش کریں، تاکہ مزید خون خرابے کو روکا جا سکے۔