World
بھارت میں چھ ماہ قید کے بعد امریکی اور یوکرینی شہریوں کی رہائی
بھارت میں غیر قانونی طور پر ہتھیار اور ڈرون اسمگل کرنے کے الزام میں چھ ماہ تک قید رہنے والے ایک امریکی اور چھ یوکرینی شہریوں کو رہا کر دیا گیا ہے۔ ان افراد پر الزام تھا کہ وہ بھارت میں برسرپیکار مسلح نسلی گروہوں کو عسکری سازوسامان فراہم کر رہے تھے۔
بھارت کی عدالت اور متعلقہ حکام کی جانب سے ایک بڑی پیش رفت کے تحت ایک امریکی شہری اور چھ یوکرینی شہریوں کو رہا کر دیا گیا ہے جو پچھلے چھ ماہ سے بھارتی جیل میں قید کاٹ رہے تھے۔ ان غیر ملکی شہریوں کو اس وقت حراست میں لیا گیا تھا جب ان پر بھارتی ریاست کے اندر مختلف مسلح نسلی گروہوں کو غیر قانونی طور پر ہتھیار اور جدید ڈرون اسمگل کرنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ حکام کے مطابق یہ افراد ملک کے طول و عرض میں جاری اندرونی شورش اور نسلی تنازعات کے دوران عسکری سازوسامان کی فراہمی میں مبینہ طور پر ملوث پائے گئے تھے۔ گرفتار ہونے والے امریکی شہری کی شناخت میتھیو وان ڈائیک کے طور پر کی گئی ہے جبکہ ان کے ساتھ دیگر چھ یوکرینی باشندے بھی اس قانونی مقدمے کی زد میں آئے تھے۔ گرفتاری کے بعد سے ہی اس معاملے پر بین الاقوامی سطح پر مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں اور سفارتی حلقوں میں اس پر گہری نظر رکھی گئی تھی۔ طویل قانونی کارروائی اور تفتیش کے بعد بالآخر ان تمام افراد کو رہا کر دیا گیا ہے، تاہم بھارتی حکام کی جانب سے اس رہائی کے پس منظر یا کسی سفارتی معاہدے کے بارے میں فی الحال مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اس رہائی سے متعلقہ ممالک کے مابین سفارتی سطح پر پس پردہ مذاکرات بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس واقعے نے ایک بار پھر بھارت میں اندرونی سیکیورٹی اور سرحدی یا داخلی سطح پر غیر ملکی عناصر کی ملوث ہونے کے معاملات کو اجاگر کیا ہے، جہاں ریاست کی جانب سے غیر قانونی ہتھیاروں کی نقل و حرکت کے خلاف سخت اقدامات اٹھائے جاتے ہیں۔ رہا ہونے والے افراد کے حوالے سے یہ توقع کی جا رہی ہے کہ وہ جلد ہی اپنے اپنے آبائی ممالک کو روانہ ہو جائیں گے، جبکہ اس مقدمے سے جڑے دیگر قانونی پہلوؤں پر اب بھی متعلقہ محکموں کی طرف سے غور جاری ہے۔