LIVE
Loading Breaking News...

خیبر پختونخوا حکومت اور مرکز میں کشیدگی، وزیراعلیٰ کا سخت مؤقف

News Image
خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت کی انسداد دہشت گردی پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ پالیسی مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ دوسری جانب وفاقی وزراء نے صوبائی حکومت پر سیکیورٹی کے امور سے غفلت برتنے کا الزام عائد کرتے ہوئے صوبے میں گورنر راج لگانے کا عندیہ دیا ہے۔
پشاور میں ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے ایک بار پھر وفاقی حکومت کی انسداد دہشت گردی کی پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ محض پولیس کو وسائل فراہم کرنے سے امن و امان کا مسئلہ حل نہیں ہو سکتا جب تک کہ ریاست کی بنیادی پالیسی میں تبدیلی نہ لائی جائے۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ پچھلے بائیس سالوں سے جاری ناکام پالیسی کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے اور اگر اس میں فوری طور پر تبدیلی نہ کی گئی تو پشتونوں کا مزید خون بہے گا۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے پولیس کی صلاحیت بڑھانے کے لیے اربوں روپے کے فنڈز منتقل کیے ہیں اور اسپیشل برانچ کو بھی فعال بنایا جا رہا ہے لیکن وفاقی وزراء حقائق کو مسخ کر رہے ہیں۔ دوسری جانب اسلام آباد اور پشاور میں وفاقی وزراء کی پریس کانفرنسوں کا ایک سلسلہ دیکھا گیا جس میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، اطلاعات کے وفاقی وزیر عطا اللہ تارڑ اور امور کشمیر و وفاق کے زیر انتظام علاقہ جات کے وزیر امیر مقام نے صوبائی حکومت کی کارکردگی کو آڑے ہاتھوں لیا۔ وفاقی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کی قیادت سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور وہ عوام کی حفاظت کے بجائے اپنی سیاسی سرگرمیوں اور لانگ مارچ پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بھی ایک بیان میں اشارہ دیا ہے کہ آئینی تقاضے پورے ہونے کی صورت میں صوبے میں گورنر راج یا ہنگامی حالت نافذ کی جا سکتی ہے، جس سے مرکز اور صوبے کے درمیان سیاسی کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے وفاقی وزراء کی جانب سے گورنر راج یا ایمرجنسی لگانے کی دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی دباؤ میں نہیں آئیں گے اور اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ انہوں نے تمام اسٹیک ہولڈرز، بشمول صوبائی حکومت، انتظامیہ اور پولیس کو اعتماد میں لے کر ایک نئی اور جامع انسداد دہشت گردی پالیسی بنانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر ان کی تجویز کردہ نئی پالیسی پر ایمانداری سے عمل درآمد کیا جائے تو صرف سو دنوں کے اندر صوبے میں مکمل امن بحال کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے وفاقی حکومت پر دوہرے معیار کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تنبیہات کو مسلسل نظر انداز کیا گیا ہے اور صوبے کے عوام کے جان و مال کو سیاست کی بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے۔ ادھر صوبائی گورنر فیصل کریم کنڈی اور دیگر سیاسی رہنماؤں نے بھی امن و امان کی ابتر صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ گورنر ہاؤس میں ہونے والے مشاورتی اجلاس میں شرکاء نے صوبے میں بڑھتی ہوئی بدامنی کو ریاستی رٹ کی کمزوری قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ صوبائی حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے ورنہ وفاق کو سخت فیصلے کرنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق وفاق اور صوبے کے درمیان جاری یہ محاذ آرائی نہ صرف سیاسی استحکام کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ اس سے صوبے میں سیکیورٹی کے مسائل بھی مزید پیچیدہ ہو رہے ہیں۔