World
عباس عراقچی کی قطری ثالثوں سے ملاقات اور امریکی جوہری مذاکرات کا مطالبہ
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں قطری ثالثوں سے اہم ملاقات کی ہے۔ دوسری جانب امریکہ نے تہران پر زور دیا ہے کہ وہ جوہری مذاکرات کو بحال کرنے کے لیے نئے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرے۔
تہران: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال اور جاری کشیدگی کے درمیان قطری ثالثوں سے اہم ملاقات کی ہے۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی سطح پر ایران اور امریکہ کے درمیان کشمکش کو ختم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔ دونوں ممالک کی جانب سے ثالثوں کے ذریعے رابطے بڑھائے جا رہے ہیں تاکہ خطے میں کسی بھی بڑی جنگ کے خطرات کو ٹالا جا سکے اور امن کی راہ ہموار کی جا سکے۔ دوسری جانب، امریکہ نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ جوہری پروگرام کے حوالے سے اپنے مؤقف میں لچک پیدا کرے اور نئے سرے سے مذاکرات کا آغاز کرے۔ امریکی حکام کا ماننا ہے کہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے تہران کو جوہری امور پر ٹھوس مراعات دینا ہوں گی۔ سفارتی ذرائع کے مطابق، واشنگٹن اور تہران کے درمیان بالواسطہ پیغامات کا تبادلہ جاری ہے تاکہ خلیجی خطے بالخصوص آبنائے ہرمز میں تجارتی راستوں کو محفوظ بنایا جا سکے اور تنازع کے پرامن حل کی طرف بڑھا جائے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ قطری ثالثی اس نازک موڑ پر انتہائی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ بین الاقوامی برادری چاہتی ہے کہ فریقین کشیدگی بڑھانے کے بجائے بات چیت کی میز پر آئیں۔ آنے والے دنوں میں اس سفارتی سرگرمی کے کیا نتائج برآمد ہوتے ہیں، یہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ آیا فریقین ایک دوسرے کے تحفظات کو دور کرنے کے لیے کس حد تک لچک کا مظاہرہ کرتے ہیں۔