LIVE
Loading Breaking News...

خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا نفاذ، سیاسی صورتحال پر گرما گرم بحث

News Image
وفاقی حکومت اور خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے حوالے سے بحث میں شدت آگئی ہے۔ صوبائی اور وفاقی رہنماؤں کے درمیان سیاسی کشیدگی کے بعد اس اقدام کے ممکنہ اثرات پر غور کیا جا رہا ہے۔
اسلام آباد اور پشاور کے سیاسی حلقوں میں ایک بار پھر گورنر راج کے نفاذ کے حوالے سے بحث شدت اختیار کر گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق مرکز کی جانب سے خیبر پختونخوا میں ممکنہ طور پر گورنر راج لگانے کی راہ ہموار کی جا رہی ہے جس پر صوبائی اور وفاقی سطح پر سیاسی ردعمل سامنے آنے کا سلسلہ جاری ہے۔ پچھلے کئی ماہ سے صوبے اور مرکز کے درمیان تعلقات کشیدہ ہیں اور موجودہ حالات نے اس بحث کو مزید ہوا دی ہے۔ صوبائی وزیر اور دیگر رہنماؤں نے خبردار کیا ہے کہ اگر خیبر پختونخوا میں کسی بھی غیر آئینی یا جبری اقدام کے تحت گورنر راج نافذ کیا گیا تو اس پر شدید عوامی ردعمل سامنے آئے گا۔ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ صوبے میں اس وقت جو صورتحال پیدا ہو چکی ہے، وہ کسی بھی طور پر اس قسم کے فیصلوں کی متحمل نہیں ہو سکتی اور عوام اس طرح کے اقدامات کو مسترد کر دیں گے۔ دوسری جانب وفاقی حکومت کے ترجمانوں اور رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ صوبے میں انتظامی امور اور امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے تمام آئینی آپشنز زیر غور ہیں۔ رہنما امیر مقام کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا کی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے کسی بھی قسم کے کڑے فیصلے سے گریز نہیں کیا جائے گا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والے چند روز صوبے کی سیاست کے لیے انتہائی اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔