World
سی ڈی ایف منیر اور امریکی وفد کی ملاقات، افغان جنگ کے جائزے پر تبادلہ خیال
آرمی چیف سے امریکی افغانستان وار کمیشن کے وفد نے جی ایچ کیو میں ملاقات کی اور افغان تنازع میں پاکستان کے کردار کا اعتراف کیا۔ سی ڈی ایف منیر نے اس موقع پر افغان جنگ کے جائزے میں خطے کے زمینی حقائق اور علاقائی نقطہ نظر کو شامل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
راولپنڈی میں جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) میں اہم ملاقات کے دوران امریکی افغانستان وار کمیشن کے وفد نے چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے دوران دونوں فریقین کے درمیان طویل افغان تنازع، اس کے خطے پر مرتب ہونے والے اثرات اور مستقبل کے لائحہ عمل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں امریکی وفد نے طویل افغان جنگ کے دوران پاکستان کے کلیدی کردار اور اس طویل تنازع کے نتیجے میں دی جانے والی لازوال قربانیوں کا اعتراف کیا۔ وفد کا ماننا تھا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ ملاقات کے دوران سی ڈی ایف منیر نے اس بات پر زور دیا کہ افغان جنگ کا جامع اور منصفانہ جائزہ لینے کے لیے علاقائی تناظر اور زمینی حقائق کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ خطے کے امن کا دارومدار درست اور حقیقت پسندانہ پالیسیوں پر ہے جو تمام فریقین کے مفادات کو مدنظر رکھیں۔ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں استحکام کے لیے مثبت کردار ادا کیا ہے اور افغان جنگ کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں پاکستان سرفہرست رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی کمیشن کا یہ دورہ اور پاکستان کی قیادت کے ساتھ بات چیت اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ واشنگٹن افغان تنازع کے اسباق کو سمجھنے کے لیے اسلام آباد کے تجربے اور نقطہ نظر کو کتنی اہمیت دیتا ہے۔ اس ملاقات سے دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات اور خطے کے سکیورٹی امور پر افہام و تفہیم کو مزید فروغ ملنے کی توقع کی جا رہی ہے۔