Business
بھارتی روپیہ ڈالر کے مقابلے میں کمزور، 96 کی حد عبور کر گیا
بین الاقوامی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے انخلاء کی وجہ سے بھارتی روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں کمزور ہو کر 96 کی سطح عبور کر گیا ہے۔ ریزرو بینک آف انڈیا کو کرنسی کے اس دباؤ کو سنبھالنے میں شدید چیلنجز کا سامنا ہے۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے اور سرمایہ کاری کے مسلسل اخراج کے دباؤ کے باعث بھارتی روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں کمزور ہو کر 96 روپے فی ڈالر کی سطح سے بھی نیچے گر گیا ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق بڑھتے ہوئے امریکی بانڈ ییلڈ اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے تناظر میں کرنسی مارکیٹ کو شدید دباؤ کا سامنا ہے، جس نے ریزرو بینک آف انڈیا کی دفاعی حکمت عملی کو بھی کڑے امتحان میں ڈال دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی کوششوں میں سست روی اور خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات براہ راست تیل کی قیمتوں پر پڑ رہے ہیں۔ بھارت اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، اس لیے تیل مہنگا ہونے سے ملکی درآمدی بل میں اضافہ ہوتا ہے جس کا براہ راست اثر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر اور روپے کی قدر پر پڑتا ہے۔
اس صورتحال میں ریزرو بینک آف انڈیا (RBI) مارکیٹ میں مداخلت کرکے روپے کی قدر کو سہارا دینے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم بیرونی دباؤ اتنا شدید ہے کہ ان کوششوں کے باوجود روپے کی گراوٹ کا سلسلہ جاری ہے۔ کاروباری حلقوں کا خیال ہے کہ اگر عالمی سطح پر تیل کے نرخوں میں کمی واقع نہ ہوئی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کی طرف سے فنڈز کی واپسی کا سلسلہ نہ روکا گیا تو آنے والے دنوں میں بھارتی معیشت کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔