World
شاہ چارلس اور پرنس ولیم ارل اسپینسر کے متنازعہ دعووں پر غصے میں
پرنسس ڈیانا کے بھائی ارل چارلس اسپینسر کی نئی کتاب میں کیے گئے دعووں کے بعد برطانوی شاہی خاندان میں شدید کشیدگی پھیل گئی ہے۔ شاہ چارلس اور شہزادہ ولیم اس صورتحال پر سخت برہم ہیں اور شاہی حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔
برطانوی شاہی خاندان میں ایک بار پھر تناؤ کی لہر دوڑ گئی ہے جب سے پرنسس ڈیانا کے بھائی ارل چارلس اسپینسر کی نئی کتاب منظر عام پر آئی ہے۔ اس کتاب میں کیے گئے سنسنی خیز دعووں کے بعد شاہی خاندان کے اندرونی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے اور ذرائع کے مطابق شاہ چارلس اور شہزادہ ولیم اس صورتحال پر شدید برہم ہیں۔ شاہی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ کتاب میں دی گئی تفصیلات اور پرانی یادوں نے شاہی محل میں ایک نیا بحران پیدا کر دیا ہے، جس سے نہ صرف بادشاہ بلکہ شہزادہ ولیم بھی خاصے تشویش کا شکار ہیں۔
ارل چارلس اسپینسر کی جانب سے لکھی گئی اس نئی کتاب میں پرنسس ڈیانا سے جڑے کئی پرانے واقعات اور یادوں کو تازہ کیا گیا ہے، جن میں کچھ ایسے دعوے بھی شامل ہیں جو شاہی خاندان کے لیے انتہائی ناگوار گزرے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، ارل اسپینسر نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ماضی میں ایک مشہور ٹی وی میزبان باربرا والٹرز سے شاہ چارلس کے مبینہ ڈیانا سے متعلق ریمارکس کے بارے میں بات کی تھی۔ انکشافات کی اس لہر نے برطانوی میڈیا میں بھی ایک طوفان برپا کر رکھا ہے اور عام لوگ بھی اس معاملے میں گہری دلچسپی لے رہے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پرنس ولیم اپنے والد شاہ چارلس کی صحت اور اس موقع پر پیدا ہونے والے تناؤ کو لے کر خاصے فکر مند ہیں۔ اگرچہ کتاب کی اشاعت کے بعد چارلس اسپینسر نے شہزادہ ولیم اور شہزادہ ہری دونوں سے بات چیت کی ہے، تاہم اس کے باوجود خاندان کے اندر موجود خلیج کم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔ شاہی خاندان کے ناقدین اور حامی دونوں ہی اس کتاب کے اثرات کا بغور جائزہ لے رہے ہیں کیونکہ ڈیانا کی شخصیت آج بھی برطانوی عوام کے دلوں میں ایک خاص مقام رکھتی ہے اور ان سے جڑا ہر تنازعات میڈیا کی شہ سرخیوں میں رہتا ہے۔