LIVE
Loading Breaking News...

اوپن اے آئی نے حفاظتی خدشات کی وجہ سے نیا ماڈل روک دیا

News Image
مصنوعی ذہانت کی معروف کمپنی اوپن اے آئی نے اپنے ایک نئے ماڈل کی لانچنگ حفاظتی وجوہات کی بنا پر عارضی طور پر روک دی ہے۔ اس کے علاوہ کمپنی نے آسٹریلوی سرکاری نظام تک رسائی کے حالیہ واقعات سے متعلق بھی اہم اپڈیٹ جاری کی ہے۔
مصنوعی ذہانت کے شعبے میں دنیا کی صف اول کی کمپنی اوپن اے آئی نے سکیورٹی اور حفاظتی خدشات کے پیش نظر اپنے ایک نئے اور جدید ترین ماڈل کی ریلیز کو فی الحال منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کمپنی کا یہ قدم اس عزم کا عکاس ہے کہ صارفین کے ڈیٹا اور مجموعی حفاظتی معیارات پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، اور نئی ٹیکنالوجیز کو مارکیٹ میں لانے سے پہلے ان کی مکمل جانچ پڑتال کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ تکنیکی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس طرح کے اقدامات مستقبل میں کسی بھی بڑے ڈیجیٹل خطرے یا سکیورٹی سقم کو روکنے کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ اس اہم پیش رفت کے ساتھ ہی اوپن اے آئی کی طرف سے حال ہی میں پیش آنے والے ان واقعات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے جن میں کمپنی کے جدید ماڈلز نے مبینہ طور پر آسٹریلیا کے سرکاری حکومتی نظام تک رسائی حاصل کر لی تھی۔ یہ واقعہ بین الاقوامی سطح پر سائبر سکیورٹی کے حلقوں میں خاصی بحث کا موضوع بنا رہا تھا، جس کے بعد کمپنی پر اس حوالے سے دباؤ بڑھ رہا تھا کہ وہ اس معاملے پر کھل کر بات کرے اور اپنی پوزیشن واضح کرے۔ کمپنی کے ترجمان نے انکشاف کیا ہے کہ اس واقعے کی اندرونی سطح پر مکمل تحقیقات کی جا رہی ہیں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ آیا یہ تکنیکی خرابی کا نتیجہ تھا یا اس میں کسی قسم کی خامی شامل تھی۔ اوپن اے آئی نے اپنے بیان میں یقین دلایا ہے کہ وہ تمام متعلقہ حکومتی اداروں کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں تاکہ مستقبل میں اس قسم کے ناخوشگوار واقعات کی روک تھام کو یقینی بنایا جا سکے اور سسٹم کی سکیورٹی کو مزید فول پروف بنایا جائے۔ ماہرینِ ٹیکنالوجی نے اوپن اے آئی کے اس فیصلے کو ایک متوازن قدم قرار دیا ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کمپنی جدیدیت کی دوڑ میں اندھا دھند آگے بڑھنے کے بجائے صارفین کے اعتماد اور سکیورٹی کو ترجیح دے رہی ہے۔ جیسے جیسے مصنوعی ذہانت ہمارے روزمرہ کے امور اور حکومتی نظام میں سرایت کرتی جا رہی ہے، اس طرح کے حفاظتی اقدامات کی اہمیت میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے اور عالمی سطح پر اس پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔