World
سپین میں 87 سالہ معمر خاتون کی اپنے گھر واپسی، وکیل کا بیان سامنے آ گیا
سپین میں 87 سالہ معمر خاتون ماریہ کارمین اباسکل کی گھر سے بے دخلی کے خلاف ملک بھر میں بڑے پیمانے پر احتجاج ریکارڈ کیا گیا تھا۔ اب ان کے وکیل نے تصدیق کی ہے کہ وہ قانون اور معاہدے کے تحت اپنے گھر واپس منتقل ہو سکتی ہیں۔
سپین میں حالیہ دنوں میں ایک انتہائی دردناک اور توجہ طلب معاملہ اس وقت سامنے آیا جب 87 سالہ معمر خاتون ماریہ کارمین اباسکل کو ان کے گھر سے بے دخل کر دیا گیا۔ اس واقعے نے پورے ملک میں ایک طوفان کھڑا کر دیا اور عام شہریوں سمیت سماجی حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا گیا۔ ماریہ کارمین کی عمر اور اس طرح اچانک بے دخلی کے اقدام نے انسانی ہمدردی کے جذبات کو ابھارا اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ معاملہ قومی خبروں کی سرخیوں میں نمایاں ہو گیا۔ اس ناانصافی کے خلاف سپین کے مختلف شہروں میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کیے گئے جن میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ معمر خاتون کے ساتھ انصاف کیا جائے اور انھیں فوری طور پر ان کی رہائش گاہ واپس دی جائے۔ عوامی دباؤ اور احتجاجی تحریک کے زور پکڑنے کے بعد اب اس معاملے میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ماریہ کارمین کے وکیل نے باضابطہ طور پر تصدیق کی ہے کہ قانونی امور اور تمام متعلقہ فریقین کے درمیان بات چیت کے نتیجے میں اب وہ اپنے گھر واپس جا سکتی ہیں۔ اس اعلان کے بعد نہ صرف خاتون کے حامیوں بلکہ ملک بھر کے عوام میں بھی اطمینان کی لہر دوڑ گئی ہے اور اسے عوامی طاقت کی ایک بڑی جیت قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس واقعے نے سپین میں ہاؤسنگ کے مسائل اور معمر شہریوں کے حقوق کے تحفظ پر ایک بار پھر سنجیدہ بحث چھڑ دی ہے۔ قانونی چارہ جوئی اور عوامی دباؤ نے مل کر اس بات کو یقینی بنایا کہ ایک بزرگ شہری کو بروقت انصاف مل سکے، اور اب توقع کی جا رہی ہے کہ ماریہ کارمین جلد ہی اپنے گھر میں پرسکون زندگی دوبارہ شروع کر سکیں گی۔