LIVE
Loading Breaking News...

ارجنٹائن اور برطانیہ کے درمیان فاکلینڈ جزائر کے تیل پر تنازع

News Image
ارجنٹائن کے صدر جاویر میلئی نے فاکلینڈ جزائر کے قریب تیل کی تلاش کے متنازع منصوبے کو ختم کرنے کے لیے دو ہفتے کا الٹی میٹم دے دیا ہے۔ انہوں نے برطانیہ کو خبردار کیا ہے کہ اگر یہ منصوبہ بند نہ کیا گیا تو سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
ارجنٹائن اور برطانیہ کے درمیان فاکلینڈ جزائر کے قریب تیل اور گیس کے ذخائر کی تلاش کے معاملے پر ایک بار پھر شدید کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔ ارجنٹائن کے صدر جاویر میلئی نے برطانیہ اور اس سے وابستہ کمپنیوں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ فاکلینڈ جزائر کے ارد گرد سمندری حدود میں تیل کے متنازع منصوبے کو فوری طور پر بند کریں۔ صدر جاویر میلئی کی حکومت کی جانب سے اس سلسلے میں واضح طور پر دو ہفتے کا سخت الٹی میٹم جاری کیا گیا ہے جس کے دوران اس منصوبے کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ یہ تنازع خاص طور پر 'سی لائن' نامی تیل کے اہم فیلڈ کے پراجیکٹ کے گرد گھومتا ہے جس پر فریقین کے درمیان طویل عرصے سے ملکیت اور حقوق کا تنازع چلا آ رہا ہے۔ ارجنٹائن کا مؤقف ہے کہ فاکلینڈ جزائر (جنہیں وہ لاس مالویناس کہتے ہیں) پر ان کی خودمختاری کا دعویٰ برحق ہے اور وہاں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تجارتی یا صنعتی سرگرمی بین الاقوامی قوانین اور ارجنٹائن کی قومی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ صدر میلئی کے اس دو ہفتے کے سخت ڈیڈ لائن کے اعلان نے بین الاقوامی سطح پر سفارتی ہلچل مچا دی ہے۔ ارجنٹائن کی وزارتِ خارجہ اور متعلقہ قانونی ادارے اس معاملے پر جامع حکمت عملی تیار کر رہے ہیں تاکہ برطانوی کمپنیوں کے خلاف عالمی عدالتوں یا دیگر پلیٹ فارمز پر قانونی کارروائی کا آغاز کیا جا سکے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر طے شدہ مدت کے اندر برطانیہ کی طرف سے کوئی مثبت جواب یا اقدام سامنے نہیں آتا تو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید خراب ہو سکتے ہیں اور یہ تنازع لاطینی امریکہ اور یورپ کے درمیان ایک بڑا سفارتی بحران بن سکتا ہے۔