World
امریکہ کینیڈا تجارتی جنگ: الکحل اور ڈیری مصنوعات پر پابندی نافذ
امریکہ اور کینیڈا کے درمیان جاری تجارتی جنگ میں اس وقت مزید شدت آ گئی ہے جب کینیڈین الکحل اور دودھ کی مصنوعات پر امریکی پابندی باضابطہ طور پر نافذ ہو گئی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اگست کے آخر میں مذاکرات ناکام ہونے کے بعد سے اب تک بات چیت دوبارہ شروع ہونے کے حوالے سے کوئی پیش رفت سامنے نہیں آ سکی ہے۔
واشنگٹن اور اوٹاوا کے مابین تجارتی تعلقات میں کشیدگی اس وقت اپنے عروج پر پہنچ گئی جب امریکہ کی جانب سے کینیڈا کی الکحل اور ڈیری مصنوعات پر پابندی کا فیصلہ باضابطہ طور پر نافذ کر دیا گیا۔ یہ اقدام دونوں قریبی پڑوسی ممالک کے درمیان جاری تجارتی تنازع میں ایک نئی اور اہم پیش رفت ہے، جس سے دوطرفہ تجارت کو شدید دھچکا لگنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس پابندی کے بعد کینیڈا کے برآمد کنندگان کو امریکی منڈیوں تک رسائی میں بڑی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ تجارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پابندی دونوں معیشتوں کے درمیان جاری اس کشمکش کا تسلسل ہے جو گزشتہ چند مہینوں سے بتدریج بڑھ رہی تھی۔ یاد رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کے حوالے سے جاری تنازع کو حل کرنے کے لیے اعلیٰ سطح کے مذاکرات اگست کے آخر میں مکمل طور پر ناکام ہو گئے تھے۔ ان مذاکرات کے خاتمے کے بعد سے تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ دونوں فریقین کے درمیان بات چیت کا سلسلہ کب اور کس طرح دوبارہ بحال ہوگا۔ سفارتی حلقوں کا ماننا ہے کہ اس تعطل کے طویل ہونے سے نہ صرف دونوں ممالک کی معیشتوں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے بلکہ اس کے اثرات عالمی منڈیوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ کینیڈین حکام کی جانب سے اس امریکی اقدام پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اور وہ اس معاملے کا کوئی سفارتی حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دوسری جانب، امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات ملکی مفادات کے تحفظ کے لیے ناگزیر تھے۔ موجودہ صورتحال کے تناظر میں، کاروباری حلقے اور سرمایہ کار انتہائی تشویش کا شکار ہیں کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان طویل تجارتی تنازع سے سپلائی چین متاثر ہو رہی ہے اور اشیا کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا خدشہ بڑھتا جا رہا ہے۔