World
جولیو ریجینی قتل کیس: مصری اہلکار جرم ثابت ہونے پر مجرم قرار
سال 2016ء میں مصر میں پراسرار طور پر لاپتہ ہونے والے اور تشدد زدہ حالت میں مردہ پائے جانے والے کیمبرج یونیورسٹی کے طالبعلم جولیو ریجینی کے معاملے میں مصری اہلکاروں کو مجرم قرار دے دیا گیا ہے۔ اس دلخراش واقعے نے بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کی صورتحال پر شدید سوالات اٹھائے تھے۔
سنہ 2016 میں مصر میں تحقیق کے لیے جانے والے کیمبرج یونیورسٹی کے طالب علم جولیو ریجینی کے اغوا اور بہیمانہ قتل کے معاملے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں عدالت نے اس گھناؤنے جرم میں ملوث مصری اہلکاروں کو مجرم قرار دے دیا ہے۔ یاد رہے کہ جولیو ریجینی مصر میں اپنے تحقیقی دورے کے دوران پراسرار طور پر لاپتہ ہو گئے تھے اور کچھ ہی دنوں بعد ان کی لاش انتہائی تشویشناک اور تشدد زدہ حالت میں برآمد ہوئی تھی۔ ان کی موت نے پوری دنیا میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی تھی اور خاص طور پر یورپی ممالک اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس بہیمانہ فعل کی شدید مذمت کی تھی۔ اس سانحے نے مصر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے رویے اور انسانی حقوق کی پامالیوں پر سنگین سوالات اٹھائے تھے، جن کی بازگشت طویل عرصے تک بین الاقوامی سطح پر سنائی دیتی رہی۔ عدالتی کارروائی کے دوران استغاثہ نے شواہد پیش کیے جن سے ثابت ہوا کہ مقتول کو دورانِ حراست شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں ان کی جان چلی گئی۔ اس فیصلے کو انسانی حقوق کے کارکنان اور مقتول کے لواحقین کی طرف سے انصاف کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، اگرچہ طویل قانونی جنگ کے بعد ملنے والا یہ فیصلہ مکمل سکون تو نہیں دے سکتا لیکن یہ اس بات کی علامت ہے کہ ظلم اور ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانے والے آخرکار انصاف حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔