LIVE
Loading Breaking News...

ٹینسیسی میں خاتون قیدی کی پھانسی کا معاملہ، گورنر کا فیصلہ

News Image
ٹینسیسی کے گورنر نے ریاست میں سزائے موت کی منتظر واحد خاتون قیدی کی رحم کی اپیل پر عمل درآمد روکنے سے انکار کر دیا ہے۔ اگر یہ پھانسی دی جاتی ہے تو یہ دو سو سال سے زائد عرصے میں ٹینیسی میں کسی خاتون کو دی جانے والی پہلی پھانسی ہوگی۔
امریکہ کی ریاست ٹینیسی کے گورنر کی جانب سے ایک اہم اور حساس فیصلے میں ریاست کی واحد خاتون سزائے موت یافتہ قیدی کی پھانسی کو روکنے سے صاف انکار کر دیا گیا ہے۔ اس عدالتی فیصلے اور گورنر کے موقف کے بعد انسانی حقوق کی تنظیموں اور قانونی حلقوں میں نئی بحث چھڑ گئی ہے، کیونکہ یہ معاملہ انتہائی تاریخی نوعیت کا حامل ہے۔ اگر طے شدہ شیڈول کے مطابق یہ پھانسی پر عمل درآمد ہوتا ہے تو یہ پچھلے دو سو سال سے زائد عرصے میں ٹینیسی کی تاریخ کا پہلا واقعہ ہوگا جہاں کسی خاتون کو موت کی سزا دی جائے گی۔ متعلقہ خاتون قیدی کے وکلاء اور انسانی حقوق کے حامیوں نے اس فیصلے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اپیل کی تھی کہ اس سزا پر نظر ثانی کی جائے یا اس کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اس نوعیت کے سزائے موت کے کیسز میں تمام قانونی اور اخلاقی پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جانا چاہیے۔ تاہم، ریاستی حکام اور گورنر کے دفتر نے تمام قانونی تقاضوں کو مکمل قرار دیتے ہوئے رحم کی اپیل کو مسترد کر دیا ہے، جس کے بعد اب اس پھانسی کے راستے میں کوئی بڑی قانونی رکاوٹ باقی نہیں بچی ہے۔ ریاست ٹینیسی کی تاریخ میں یہ مقدمہ انتہائی اہمیت اختیار کر چکا ہے اور میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ملک بھر میں سزائے موت کے خلاف آواز اٹھانے والے ادارے اس پیش رفت پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں اور مختلف پلیٹ فارمز پر اس فیصلے کے خلاف احتجاج بھی ریکارڈ کروایا جا رہا ہے۔ دوسری جانب، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور متعلقہ حکام پھانسی کی حتمی تیاریوں کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہیں، اور آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید قانونی چارہ جوئی کے امکانات بھی زیر غور لائے جا رہے ہیں۔