Business
آسٹریلیا میں شرح سود میں اضافہ، مہنگائی قابو کرنے کے لیے اہم اقدام
آسٹریلیا کے مرکزی بینک نے مسلسل مہنگائی کے دباؤ کے پیش نظر شرح سود میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ اس نئے اضافے کے بعد بینچ مارک شرح سود گزشتہ پندرہ سال کی بلند ترین سطح چار اعشاریہ چھ فیصد ہو گئی ہے۔
آسٹریلیا کے مرکزی بینک (Reserve Bank of Australia) نے ملک میں جاری مہنگائی کے شدید دباؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے شرح سود میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا ہے۔ تازہ ترین فیصلوں کے تحت بینچ مارک شرح سود کو بڑھا کر چار اعشاریہ چھ فیصد تک پہنچا دیا گیا ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق شرح سود کی یہ سطح گزشتہ پندرہ سالوں میں آسٹریلیا کے اندر سب سے زیادہ ہے، جس کا مقصد معیشت میں طلب کو اعتدال پر لانا اور بڑھتی ہوئی قیمتوں کی رفتار کو روکنا ہے۔ مرکزی بینک کے حکام کا کہنا ہے کہ مہنگائی توقع سے زیادہ عرصے تک بلند سطح پر برقرار رہی ہے، جس کی وجہ سے یہ سخت مالیاتی فیصلے کرنا ناگزیر ہو گئے تھے۔ کورونا کے بعد سے عالمی سطح پر پیدا ہونے والے معاشی بحران اور سپلائی چین کے مسائل نے آسٹریلوی معیشت کو بھی متاثر کیا ہے، جہاں عام اشیائے خوردونوش اور توانائی کی قیمتیں عام شہریوں کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔ مرکزی بینک کے اس اقدام سے عام شہریوں اور کاروباری طبقے پر مالی بوجھ میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ رہ قرضوں (mortgages) اور ہوم لونز کی ماہانہ قسطیں مزید مہنگی ہو جائیں گی، جس سے عوام کی قوتِ خرید متاثر ہوگی اور وہ مارکیٹ میں کم خرچ کرنے پر مجبور ہوں گے۔ اس صورتحال نے آسٹریلیا کے مالیاتی اور سیاسی حلقوں میں بھی بحث چھوٹی ہے کہ آیا یہ سخت اقدامات معیشت کو مزید مندی کی طرف دھکیل سکتے ہیں یا نہیں۔ دوسری جانب، معاشی تجزیہ کاروں کا یہ بھی ماننا ہے کہ اگر مرکزی بینک بروقت یہ سخت قدم نہ اٹھاتا تو مہنگائی کا جن مزید بے قابو ہو سکتا تھا، جس سے طویل مدت میں معیشت کو زیادہ نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا۔