World
نائجیریا میں اغوا کی واردات اور انسانی باقیات برآمد
نائجیریا کے شمالی علاقوں میں مسلح گروہوں کے حملوں کے دوران کسانوں اور خواتین سمیت 80 سے زائد افراد کو اغوا کر لیا گیا ہے۔ پولیس نے چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران مشتبہ جرائم پیشہ افراد کے کیمپوں سے انسانی باقیات بھی دریافت کی ہیں۔
نائجیریا کے شمالی حصوں میں امن و امان کی صورتحال ایک بار پھر ابتر ہو گئی ہے جہاں نائجر اور زمفارا صوبوں میں پیش آنے والے پرتشدد واقعات میں کسانوں اور خواتین سمیت اسی سے زائد افراد کو اغوا کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ مقامی ذرائع اور پولیس حکام کے مطابق یہ اغوا کارروائیاں مسلح جرائم پیشہ گروہوں کی جانب سے کی گئی ہیں جو طویل عرصے سے اس خطے میں سرگرم عمل ہیں اور معصوم شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں شہریوں کی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہیں اور اغوا کیے جانے والے افراد کی بازیابی کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔
اس سنگین صورتحال کے دوران، نائجیریائی پولیس نے کارروائیوں کو مزید وسعت دیتے ہوئے مشتبہ گینگز کے ممکنہ ٹھکانوں اور کیمپوں پر چھاپے مارے۔ ان کارروائیوں کے دوران پولیس کو تلاشی کے دوران انسانی باقیات برآمد ہوئی ہیں، جس سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان مجرمانہ گروہوں کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بننے والے افراد کو بے دردی سے قتل کیا گیا ہو گا۔ پولیس اور فارنزک ٹیمیں برآمد ہونے والی انسانی باقیات کی شناخت کے لیے ڈی این اے اور دیگر سائنسی طریقوں کا سہارا لے رہی ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا یہ باقیات اغوا ہونے والے بدقسمت افراد کی ہیں یا کسی اور کی ہلاکت کا نتیجہ ہیں۔
واضح رہے کہ نائجیریا کے شمالی اور شمال مغربی علاقے گزشتہ کئی برسوں سے بدترین سکیورٹی بحران کا شکار ہیں، جہاں مسلح گروہ اور ڈاکوؤں کے گروہ دیہات پر دھاوے بولتے ہیں۔ یہ گروہ نہ صرف مقامی آبادی بالخصوص کسانوں کو لوٹتے ہیں بلکہ بڑی تعداد میں لوگوں کو اغوا کر کے بھاری تاوان کا مطالبہ بھی کرتے ہیں۔ حکومت اور سکیورٹی فورسز کی جانب سے وقتاً فوقتاً آپریشنز کیے جانے کے باوجود ان جرائم پیشہ عناصر کی سرگرمیوں میں خاطر خواہ کمی واقع نہیں ہو سکی ہے۔
حالیہ سانحے کے بعد علاقے کے مکینوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے اور انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر مؤثر اقدامات اٹھائے۔ عوام کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے ان مسلح گینگز کے خلاف فیصلہ کن اور آخری درجے کا آپریشن نہ کیا تو خطے میں انسانی بحران مزید سنگین ہو جائے گا۔ دوسری جانب، پولیس حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اغوا شدہ افراد کی بازیابی اور مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں اور جلد ہی علاقے میں امن بحال کیا جائے گا۔