World
آبنائے ہرمز تنازع: ایرانی وزیر خارجہ کا امریکا کے جواب سے متعلق بیان
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ تہران کو توقع ہے کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق منصوبے پر امریکا منگل کے روز اپنا جواب دے گا۔ یہ پیشرفت دونوںممالک کی جانب سے تنازع کے خاتمے کے لیے ثالثوں کے ذریعے کی جانے والی کوششوں کا حصہ ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ تہران کو توقع ہے کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے مجوزہ منصوبے کے حوالے سے امریکا منگل کے روز اپنا حتمی جواب دے گا۔ اس اہم پیشرفت کا مقصد خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنا اور جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی راہ ہموار کرنا ہے۔ قطری ثالثوں کی وساطت سے دونوںممالک کے درمیان পরোক্ষ مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے تاکہ اس دیرینہ تنازع کا کوئی قابلِ عمل حل نکالا جا سکے۔ تہران کا کہنا ہے کہ قطر اس بار امریکا کے سامنے کچھ نئی تجاویز پیش کر رہا ہے جن کا مقصد آبنائے ہرمز کے بند راستوں کو کھولنا اور سمندری تجارت کی بحالی کو یقینی بنانا ہے۔ دوسری جانب، بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سابقہ ایرانی تجاویز کو مسترد کیے جانے کے باوجود اب یہ توقع کی جا رہی ہے کہ رواں ہفتے دونوں فریقین کے درمیان رابطے تیز ہوں گے۔ ایرانی حکام کا موقف ہے کہ خطے میں پائیدار امن صرف اور صرف معنی خیز مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے، اور طاقت کا استعمال اس مسئلے کا حل نہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم گزرگاہ ہے، اور اس بندش سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر شدید اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ عالمی برادری اور علاقائی ممالک اس کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے متحرک ہو چکے ہیں تاکہ کسی بھی بڑی جنگ یا معاشی بحران سے بچا جا سکے۔ منگل کے روز امریکا کی طرف سے آنے والا ردعمل اس پورے معاملے کا رخ متعین کرنے میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے، جس پر دنیا بھر کی نگاہیں مرکوز ہیں۔