LIVE
Loading Breaking News...

آئی ایم ایف مذاکرات اور حکومت کی طرف سے نئے پروکیورمنٹ رولز کا نفاذ

News Image
عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے وفد کے دورہ پاکستان کے دوران حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ کے نئے قوانین کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ ان نئے اقدامات کا مقصد سرکاری اخراجات میں شفافیت لانا اور مالیاتی اصلاحات کے ایجنڈے کو آگے بڑھانا ہے۔
اسلام آباد میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے وفد کی موجودگی کے دوران، حکومتِ پاکستان نے سرکاری خریداری کے نئے قواعد و ضوابط کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ یہ قدم ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب ملک میں اقتصادی اصلاحات اور بین الاقوامی قرض پروگرام کے مختلف اہداف پر عمل درآمد کے لیے بات چیت کا سلسلہ جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق نئے پروکیورمنٹ رولز کا بنیادی مقصد سرکاری محکموں میں خریداری کے عمل کو زیادہ شفاف، مؤثر اور بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانا ہے تاکہ مالیاتی بدانتظامی کے امکانات کو کم سے کم کیا جا سکے۔اس وقت پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان توسیعی فنڈ سہولت (EFF) اور لچکدار اور پائیدار سہولت (RSF) کے چوتھے اور تیسرے جائزوں کے لیے باقاعدہ مذاکرات کا آغاز بھی ہو چکا ہے۔ دونوں فریقین اقتصادی کارکردگی، محصولات کے اہداف اور ساختیاتی اصلاحات کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں۔ دوسری جانب، اقتصادی منظرنامے پر بات کرتے ہوئے پاکستانی حکام نے آئی ایم ایف کو آگاہ کیا ہے کہ خلیجی خطے میں کشیدگی اور جنگی صورتحال کی وجہ سے قومی معیشت کی رفتار سست ہوئی ہے اور ملک کو ریونیو کے لحاظ سے بھی کچھ نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔اس کے علاوہ، حکومت کو درپیش معاشی چیلنجز میں محصولات کے نظام میں بہتری اور مختلف مالیاتی تضادات کو ختم کرنا بھی شامل ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے طویل المدتی اصلاحات پر سختی سے عمل درآمد کیا جا رہا ہے تاکہ ملکی برآمدات کو بڑھایا جا سکے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے ماحول کو مزید سازگار بنایا جا سکے، جس سے معاشی بحالی کا عمل تیز ہو سکے۔