Politics
سہیل آفریدی، عمران خان کی رہائی اور کے پی کی سیاست
پاکستان کی سیاست میں خیبرپختونخوا کے حوالے سے اہم پیشرفت سامنے آ رہی ہے جہاں قیادت کے فیصلوں اور حکمت عملی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ سہیل آفریدی کے کردار اور تحریک انصاف کے طویل مارچ کی تیاریوں کے حوالے سے سیاسی حلقوں میں گرما گرم بحث جاری ہے۔
پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال میں ایک بار پھر ہلچل مچ گئی ہے جہاں سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی رہائی کے لیے مختلف زاویوں سے کوششیں اور بحث جاری ہے۔ اس تناظر میں سہیل آفریدی کا کردار کافی اہمیت اختیار کر گیا ہے اور سیاسی تجزیہ کار یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ آیا وہ پارٹی کے لیے کوئی بڑی تبدیلی لانے میں کامیاب ہوں گے یا نہیں۔ دوسری جانب، بند کمروں میں ہونے والے فیصلوں کے حوالے سے بھی سخت ردعمل سامنے آیا ہے اور یہ مؤقف اپنایا گیا ہے کہ اب ایسے فیصلے قبول نہیں کیے جائیں گے۔
خیبرپختونخوا کی سطح پر بھی سیاسی درجہ حرارت بڑھتا جا رہا ہے جہاں سہیل آفریدی کو تحریک عدم اعتماد جیسے خطرات کا بھی سامنا ہے۔ صوبائی سیاسی منظر نامے میں جماعت کے اندرونی اختلافات اور حکمت عملی پر تحفظات کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، پارٹی کی طویل مارچ کی تیاریوں کے حوالے سے بھی بعض رہنما مطمئن نظر نہیں آتے اور اس معاملے پر اندرونی سطح پر شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔
سابق وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی جانب سے بھی طویل مارچ کی تاریخ میں تبدیلی کے حوالے سے اہم بیان سامنے آیا ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ اس تبدیلی سے پارٹی کی پوزیشن کمزور ہوئی۔ ان تمام اندرونی گھماؤ پھیر اور چیلنجز کے باوجود پی ٹی آئی کے کارکنان عمران خان کی رہائی کے لیے پرامید ہیں، تاہم پارٹی قیادت کے اندر اتحاد اور مربوط حکمت عملی کی کمی سیاسی مستقبل کے لیے بڑے چیلنجز کے طور پر ابھر رہی ہے۔