LIVE
Loading Breaking News...

لاہور میں آذربائیجانی خاتون سے زیادتی، دو ملزمان کا چھ روزہ ریمانڈ منظور

News Image
لاہور کی ایک عدالت نے آذربائیجان سے تعلق رکھنے والی خاتون کے ساتھ پیش آنے والے اجتماعی زیادتی کے گھناؤنے واقعے میں ملوث دو ملزمان کو چھ روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔ پولیس اس معاملے میں مزید تفتیش کر رہی ہے جبکہ تیسرے ملزم کی تلاش جاری ہے۔
لاہور کی ایک مقامی عدالت نے آذربائیجان سے تعلق رکھنے والی بیس سالہ خاتون کے ساتھ پیش آنے والے اجتماعی زیادتی کے ہولناک واقعے میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے دو ملزمان کو چھ روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔ واقعے کے بعد سے ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے اور خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے جرائم پر ایک بار پھر سوالیہ نشان اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ عدالتی کارروائی کے دوران استغاثہ اور پولیس کی جانب سے ملزمان کی مزید تفتیش کے لیے ریمانڈ کی استدع کی گئی جسے عدالت نے منظور کر لیا۔ متاثرہ آذربائیجانی خاتون نے عدالت میں اپنے بیان کے دوران ہولناک انکشافات کیے ہیں۔ اس کا کہنا تھا کہ ملزمان نے نہ صرف اسے شدید حبسِ بے جا میں رکھا اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں بلکہ اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد ایک چلتی ہوئی گاڑی سے باہر دھکا بھی دے دیا۔ پولیس حکام کے مطابق اس کیس میں اب تک اہم گرفتاریاں عمل میں آ چکی ہیں جبکہ دوسرا مرکزی ملزم بھی پولیس کی گرفت میں آ چکا ہے اور تیسرے مفرور ملزم کی تلاش کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، پولیس نے اس گھناؤنے جرم میں مبینہ طور پر سہولت کاری کرنے والے تین افراد کو بھی حراست میں لیا ہے تاکہ معاملے کی ہر پہلو سے جانچ پڑتال کی جا سکے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور فرانزک رپورٹس کی روشنی میں ملزمان کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس واقعے نے پاکستان میں غیر ملکی سیاحوں اور بالخصوص خواتین کی سیکیورٹی کے حوالے سے سنجیدہ سکیورٹی خدشات کو جنم دیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور سول سوسائٹی نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت اور عدلیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس کیس میں انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائیں اور مجرموں کو قرار واقع سزا دیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے اور اس گھناؤنے جرم میں ملوث کسی بھی شخص کو معاف نہیں کیا جائے گا، جبکہ تفتیشی ٹیمیں اس معاملے کو جلد از جلد منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے پرعزم ہیں۔