Business
نیپرا اگست ایف سی اے بجلی کی قیمت میں اضافے کی سماعت
نیپرا کی جانب سے اگست کے ایف سی اے کے تحت بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی درخواست پر آج سماعت کی جائے گی۔ اس اضافے کی منظوری کی صورت میں ملک بھر کے صارفین پر اضافی مالی بوجھ پڑے گا۔
اسلام آباد: نیشنل الیکٹرانک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) آج اگست کے ماہانہ فیول کاسٹ ایڈجسمنٹ (ایف سی اے) کی مد میں بجلی کی قیمتوں میں ایک روپے تہتر پیسے فی یونٹ اضافے کی درخواست پر سماعت کرے گی۔ اس درخواست پر فیصلے کے بعد ملک بھر کے بجلی صارفین کے ماہانہ بلوں پر براہ راست اثر پڑے گا اور پاور سیکٹر کے امور پر ایک بار پھر بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔ مرکزی پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کی جانب سے دائر کی جانے والی اس درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اگست کے مہینے میں بجلی کی پیداوار کے لیے استعمال ہونے والے ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاو اور مختلف ذرائع سے بجلی کی خریداری کی لاگت میں اضافے کی وجہ سے یہ ایڈجسمنٹ ناگزیر ہو چکی ہے۔ نیپرا کے حکام اس درخواست کا تکنیکی جائزہ لیں گے اور یہ جانچیں گے کہ آیا بجلی کی پیداوار کے لیے جن ذرائع کا انتخاب کیا گیا وہ اقتصادی لحاظ سے کتنے مؤثر تھے۔ اس سے قبل بھی صارفین مہنگے بجلی کے بلوں کی وجہ سے شدید مشکلات کا شکار ہیں اور فیول ایڈجسمنٹ کی مد میں مزید اضافے سے عوام میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر یہ اضافہ منظور کر لیا جاتا ہے تو اس سے عام صارفین کے ساتھ ساتھ صنعتی شعبے پر بھی پیداواری لاگت کا بوجھ مزید بڑھ جائے گا، جو پہلے ہی ملکی معاشی صورتحال اور مہنگائی کی وجہ سے شدید دباؤ میں ہے۔ نیپرا اس سماعت کے دوران تمام متعلقہ فریقین، بشمول ڈسکوز کے نمائندگان، صنعتی ماہرین اور عام شہریوں کے تحفظات سنے گی اور تمام دلائل کا جائزہ لینے کے بعد حتمی فیصلے کا اعلان کرے گی۔ واضح رہے کہ ماہانہ ایف سی اے کے تحت کیے جانے والے یہ فیصلے صرف ایک ماہ کے لیے لاگو ہوتے ہیں یا پھر ان کی منظوری سے آئندہ کے بلوں میں باقاعدہ ایڈجسمنٹ کی جاتی ہے، جس کا نوٹیفیکیشن نیپرا کی منظوری کے بعد جاری کیا جاتا ہے۔