LIVE
Loading Breaking News...

افغان حکومت عسکریت پسند ذہنیت ترک کرے: عطا اللہ تارڑ کا بیان

News Image
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ افغان عبوری حکومت کو اپنی پرانی عسکریت پسند سوچ سے جان چھڑانا ہوگی۔ انہوں نے خطے میں پائیدار امن اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اقدامات پر زور دیا۔
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ خطے میں امن اور استحکام کے قیام کے لیے افغان عبوری حکومت کو اپنی سوچ میں بنیادی تبدیلی لانا ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ کابل انتظامیہ کو اب عسکریت پسند ذہنیت سے باہر نکل کر زمینی حقائق کا ادراک کرنا ہوگا تاکہ پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات بہتری کی طرف گامزن ہو سکیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے بغیر نہ صرف خطے کی ترقی ممکن ہے اور نہ ہی باہمی تجارت اور معاشی سرگرمیاں پروان چڑھ سکتی ہیں۔ عطا اللہ تارڑ نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ افغانستان میں امن کے لیے کلیدی کردار ادا کیا ہے اور وہ خطے کے تمام ممالک کے ساتھ پرامن بقائے باہم کے اصول پر یقین رکھتا ہے۔ تاہم انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ افغان سرزمین تاحال دہشت گرد عناصر کے لیے استعمال ہو رہی ہے جو پاکستان سمیت پورے خطے کی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ پاکستان نے متعدد بار کابل انتظامیہ کے سامنے یہ مطالبات رکھے ہیں کہ وہ اپنی سرزمین پر موجود تخریبی عناصر کے خلاف سخت اور فیصلہ کن کارروائی کرے تاکہ سرحد کے دونوں جانب امن کی فضا قائم کی جا سکے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، وفاقی وزیر اطلاعات کا یہ بیان پاکستان اور افغانستان کے درمیان موجودہ سفارتی تناؤ اور سلامتی کے خدشات کی عکاسی کرتا ہے۔ پاکستان کی جانب سے بارہا افغان قیادت کو باور کرایا جا چکا ہے کہ بین الاقوامی برادری کے ساتھ معمول کے تعلقات کے لیے ضروری ہے کہ کابل دہشت گردی کے خلاف دوٹوک پالیسی اپنائے۔ خطے میں پائیدار امن اسی صورت ممکن ہے جب افغانستان کی سر زمین کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہو۔ حکومتِ پاکستان کا مؤقف ہے کہ وہ خطے میں کسی بھی قسم کی دہشت گردی کو برداشت نہیں کرے گی اور اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھانے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔ افغانستان کی عبوری حکومت کے لیے یہ ایک اہم موقع ہے کہ وہ بین الاقوامی برادری کے مطالبات پر غور کرے اور عسکریت پسندی کی سوچ کو ہمیشہ کے لیے خیر باد کہہ کر ایک ذمہ دار ریاست کی حیثیت سے اپنے فرائض سر انجام دے۔