LIVE
Loading Breaking News...

وفاقی کمیشن کا ہراسانی کیس پر اہم فیصلہ اور تشریح

News Image
وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسانی نے کام کی جگہ پر ہراسانی کے قانون کا دائرہ کار محدود کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم کر دیا ہے۔ کمیشن نے واضح کیا ہے کہ کام کی جگہ پر ہر قسم کی ہراسانی کو جنسی ہراسانی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسانی (FCC) نے کام کی جگہ پر ہراسانی سے متعلق ایک اہم فیصلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ہے۔ اس نئے فیصلے کے بعد ملک بھر میں کام کی جگہوں پر ہراسانی کے قوانین اور ان کے اطلاق کے حوالے سے ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے، کیونکہ کمیشن نے قانون کے دائرہ کار کو مزید واضح اور محدود کر دیا ہے۔ کمیشن کی جانب سے جاری کردہ موقف میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ کام کی جگہ پر پیش آنے والے ہر تنازع یا ہراسانی کو جنسی ہراسانی کے زمرے میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔ ایف سی سی کے مطابق، کسی بھی واقعے کو جنسی ہراسانی قرار دینے کے لیے اس میں جنسی عنصر (Sexual Element) کا پایا جانا لازمی اور بنیادی شرط ہے۔ اس تشریح کا مقصد قانون کے غلط استعمال کو روکنا اور حقیقی متاثرین کو انصاف فراہم کرنا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ کارپوریٹ اور سرکاری اداروں میں کام کرنے والے ملازمین کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں ہراسانی کے دائرہ کار کو کافی وسیع سمجھا جا رہا تھا، تاہم اب وفاقی کمیشن کی جانب سے دائرہ کار کو محدود کرنے کے بعد کیسز کی نوعیت اور ان کی سماعت کے طریق کار میں نمایاں تبدیلی متوقع ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ کام کی جگہ پر ملازمین کا تحفظ حکومت کی ترجیح ہے، لیکن اس بات کو بھی یقینی بنایا جانا چاہیے کہ قوانین کا غلط استعمال نہ ہو اور کسی بھی بے بنیاد الزام سے کسی کی پیشہ ورانہ ساکھ کو نقصان نہ پہنچے۔ تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس نئے فیصلے کی روشنی میں اپنے ہاں ہراسانی کی شکایات نمٹانے کے طریقہ کار کا جائزہ لیں۔