World
اقوام متحدہ فنڈز بحران: 83 لاکھ افراد امداد سے محروم
اقوام متحدہ کے ایک ذیلی ادارے نے شدید مالیاتی بحران کے باعث لاکھوں افراد تک امداد پہنچنے کے رکنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ اس صورتحال سے دنیا بھر میں انسانی بحران مزید سنگین ہونے کا خطرہ ہے۔
اقوام متحدہ کے ایک امدادی ادارے نے حالیہ دنوں میں شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر میں مالیاتی وسائل کی شدید کمی کے باعث لگ بھگ 83 لاکھ افراد ضروری انسانی امداد سے محروم ہو سکتے ہیں۔ ادارے کے مطابق اگر عالمی برادری نے بروقت فنڈز فراہم نہ کیے تو دنیا کے کئی حساس اور تنازعات کا شکار خطوں میں انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے، جہاں پہلے ہی لاکھوں لوگ خوراک، ادویات اور سر چھپانے کی جگہ کے لیے ترس رہے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بہت سے اہم ڈونر ممالک اور اداروں کی جانب سے امدادی بجٹ میں کٹوتی کی گئی ہے جس کی وجہ سے فنڈز کا حصول انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔ اس مالی بحران کے براہ راست اثرات ان غریب اور پسماندہ طبقات پر پڑیں گے جو اپنی روزمرہ زندگی کے لیے مکمل طور پر بین الاقوامی امداد پر انحصار کرتے ہیں۔ فنڈز نہ ہونے کے باعث صحت، تعلیم اور خوراک کی فراہمی کے جاری منصوبے معطل ہونے کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے حکام نے تمام مخیر ممالک، بین الاقوامی تنظیموں اور مالیاتی اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس سنگین صورتحال کا فوری نوٹس لیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ وقت باہمی تعاون کو بڑھانے اور انسانی جانیں بچانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر مالی اعانت فراہم کرنے کا ہے۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو اس بحران کے اثرات طویل المدتی ہوں گے اور لاکھوں معصوم جانیں خطرے میں پڑ جائیں گی۔