World
امریکی افواج کا عراق سے انخلا اور خطے پر اثرات
دو دہائیوں پر محیط طویل موجودگی کے بعد امریکی افواج نے عراق سے اپنا انخلا مکمل کر لیا ہے۔ اس پیش رفت سے خطے میں بالخصوص کردستان کے خطے کو سکیورٹی کے نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔
دو دہائیوں سے زائد عرصے تک عراقی سرزمین پر قابض رہنے کے بعد بالآخر امریکی افواج نے عراق سے اپنا مکمل انخلا کر لیا ہے۔ اس تاریخی تبدیلی کے بعد عراقی سیاست اور سکیورٹی کے منظر نامے میں ایک نئے دور کا آغاز ہو رہا ہے، تاہم اس انخلا کے ساتھ ہی خطے میں سکیورٹی کے حوالے سے شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی فوج کی واپسی سے عراقی حکومت اور خطے کے دیگر اسٹیک ہولڈرز کے سامنے نئے چیلنجز آ کھڑے ہوئے ہیں اور اس خلا کو پر کرنے کے لیے مختلف علاقائی طاقتیں متحرک ہو چکی ہیں۔دوسری جانب عراقی کردستان کے حکام نے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ بین الاقوامی اتحادی افواج کے انخلا کے بعد ان کا خطہ فضائی دفاعی نظام سے محروم ہو گیا ہے، جس سے وہ بیرونی خطرات بالخصوص ایرانی دباؤ اور دھمکیوں کے سامنے زیادہ غیر محفوظ ہو گئے ہیں۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ بغداد حکومت کی طرف سے ایران حامی ملیشیاؤں کو غیر مسلح کرنے کے عمل کو جون 2027 تک مؤخر کیے جانے کے فیصلے نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے اور اس سے تہران کے لیے علاقائی اثر و رسوخ مزید بڑھانے کے مواقع پیدا ہو گئے ہیں۔عراق کے اندر اور باہر موجود سیاسی پنڈت اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ آیا عراقی سکیورٹی فورسز اکیلے ملک کی اندرونی سلامتی کو سنبھالنے اور کسی بھی ممکنہ بحران سے نمٹنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہیں یا نہیں۔ انخلا کا یہ مرحلہ جہاں ایک طرف عراقی خودمختاری کی بحالی کی طرف ایک قدم سمجھا جا رہا ہے، وہیں دوسری طرف یہ پڑوسی ممالک کے لیے اپنے اسٹریٹجک مفادات کو وسعت دینے کا سنہری موقع بھی فراہم کر رہا ہے، جس پر بین الاقوامی برادری کی بھی گہری نظر ہے۔