Business
امریکہ چین ٹیرف کم: زرعی مصنوعات کی طلب پر اثرات
چین اور امریکہ کے درمیان ساٹھ ارب ڈالر مالیت کی اشیاء پر ٹیرف میں کمی کا اعلان کیا گیا ہے، جس میں زرعی مصنوعات بھی شامل ہیں۔ تاہم، اس اقدام کے باوجود امریکی فصلوں کی مجموعی طلب میں اضافے کا مستقبل تاحال غیر یقینی ہے۔
امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی کشیدگی میں کمی کے حوالے سے حالیہ پیش رفت کے تحت ساٹھ ارب ڈالر مالیت کی مختلف درآمدات پر ٹیرف میں کٹوتی کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس معاہدے میں کھلونوں اور ٹوسٹر جیسی روزمرہ اشیاء کے ساتھ ساتھ زرعی مصنوعات کو بھی شامل کیا گیا ہے، جس کا مقصد دونوں معیشتوں کے درمیان تجارتی تعلقات کو بہتر بنانا اور مارکیٹ کے استحکام کو فروغ دینا ہے۔ مبصرین کے مطابق، اس توسیعی تجارتی معاہدے کو جنوری 2027 تک بڑھا دیا گیا ہے، اور دونوں ممالک نے زراعت اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں باضابطہ مذاکراتی چینلز بھی قائم کر دیے ہیں تاکہ مستقبل کے تنازعات کو خوش اسلوبی سے حل کیا جا سکے۔ تاہم، اس بظاہر مثبت پیش رفت کے باوجود ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ اس بات کا اندازہ لگانا ابھی قبل از وقت ہے کہ اس اقدام سے امریکی فصلوں کی طلب میں کتنا نمایاں اضافہ ہو گا۔ مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کے مطابق، چین کی جانب سے ٹیرف میں کمی کی فہرست میں کچھ اہم ترین فصلیں، بالخصوص سویا بین، تاحال اس سے باہر رکھی گئی ہیں، جس کی وجہ سے امریکی کسانوں اور برآمد کنندگان میں تشویش کی لہر پائی جاتی ہے۔ سویا بین چینی منڈی میں امریکی برآمدات کا ایک بہت بڑا اور اہم حصہ رہا ہے، اور اس کی عدم موجودگی نے مجموعی توقعات کو محدود کر دیا ہے۔ اگرچہ دیگر زرعی اجناس پر ٹیرف کم ہونے سے کسانوں کو کچھ حد تک ریلیف ضرور ملے گا، لیکن جب تک بنیادی اور بڑی اجناس کے حوالے سے حتمی پالیسی واضح نہیں ہوتی، طلب میں پائیدار اور بڑا اضافہ متوقع نہیں ہے۔ دوسری جانب، بین الاقوامی منڈی کے سرمایہ کار اور زرعی ادارے دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی نئی بات چیت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا آنے والے مہینوں میں چین امریکی زرعی برآمدات کے لیے اپنی پالیسیوں میں مزید نرمی لاتا ہے یا نہیں۔ اس وقت تک، امریکی زرعی شعبے سے وابستہ افراد کے لیے صورتحال ملی جلی اور احتیاط پر مبنی پرامید ہی رہے گی، کیونکہ تجارتی جنگ کے طویل مدتی اثرات سے نکلنے میں وقت درکار ہوگا۔