LIVE
Loading Breaking News...

سلامتی کونسل اجلاس: مغربی کنارے میں کشیدگی اور غزہ پلان پر تبادلہ خیال

News Image
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس مغربی کنارے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور غزہ کے امن منصوبے میں تعطل کے پیش نظر طلب کیا گیا۔ اجلاس کے دوران عالمی رہنماؤں نے فوری عملی اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے غیر قانونی بستیوں کی توسیع کی شدید مذمت کی۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ایک اہم ہنگامی اجلاس منعقد ہوا جس میں مقبوضہ مغربی کنارے میں روز بروز بڑھتی ہوئی کشیدگی اور غزہ کے لیے مجوزہ امن منصوبے میں تعطل کے امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس کے دوران عالمی رہنماؤں اور مندوبین نے خطے میں بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور اس بات پر زور دیا کہ اب محض بیانات دینے کا وقت گزر چکا ہے بلکہ زمینی سطح پر فوری اور عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مختلف ممالک کے نمائندگان نے اس امر کی نشاندہی کی کہ مقبوضہ علاقوں میں کشیدگی خطے کے امن کو ہمیشہ کے لیے تباہ کر سکتی ہے۔ اجلاس کے دوران اقوام متحدہ کے حکام اور فلسطینی مندوبین نے اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے میں بستیوں کی مسلسل توسیع کو امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بستیوں کی غیر قانونی توسیع، زمینوں کے الحاق اور جبری بے دخلی کے اقدامات کو فوری طور پر روکا جانا چاہیے تاکہ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کو یقینی بنایا جا سکے۔ چین سمیت کئی دیگر ممالک نے بھی اس موقع پر زور دیا کہ سلامتی کونسل کو اپنے فیصلوں پر عمل درآمد کے لیے سخت اور مؤثر لائحہ عمل اپنانا چاہئے۔ مبصرین کے مطابق، یہ اجلاس ایسے وقت میں ہوا ہے جب غزہ میں جاری بحران اور مغربی کنارے کے حالات کے باعث دو ریاستی حل کا تصور شدید خطرے سے دوچار ہے۔ عالمی برادری پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ محض زبانی کلامی مذمت پر اکتفا کرنے کے بجائے تنازعات کے پرامن اور مستقل حل کے لیے عملی سفارتی کوششیں تیز کرے، بصورت دیگر مشرق وسطیٰ میں امن کی بحالی کا خواب کبھی پورا نہیں ہو سکے گا۔