LIVE
Loading Breaking News...

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں، مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کا اثر

News Image
عالمی مالیاتی منڈیوں میں بانڈز کی فروخت کے دباؤ اور مشرق وسطیٰ کے تنازع کی وجہ سے خام تیل کی قیمتوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کا آبنائے ہرمز کھولنے کا منصوبہ مسترد کیے جانے کے بعد تیل کے نرخوں میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں بانڈز کی فروخت کے رجحان اور مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی رسد کی تشویش کے درمیان خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مختلف مالیاتی اداروں اور خبر رساں اداروں کے مطابق، عالمی سطح پر اقتصادی اور سیاسی عوامل کے زیر اثر توانائی کی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری ہے، جس نے سرمایہ کاروں کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تعطل نے سعودی عرب کی تیل کی ترسیلات اور مجموعی عالمی سپلائی کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ سرمایہ کار بالخصوص مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ اس خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کو شدید متاثر کر سکتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، امریکی صدر کی جانب سے ایران کے اس منصوبے کو مسترد کیے جانے کے بعد جس میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی بات کی گئی تھی، تیل کی قیمتوں میں ایک دم تیزی آ گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بانڈ مارکیٹ میں فروخت کے دباؤ اور جغرافیائی سیاسی تنازعات کا امتزاج کموڈٹی مارکیٹوں کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر رہا ہے۔ اگرچہ کچھ مواقع پر منڈی میں ملا جلا رجحان دیکھا گیا اور سرمایہ کاروں نے مشرق وسطیٰ کی سپلائی پر خصوصی توجہ مرکوز رکھی، لیکن مجموعی طور پر قیمتوں کا گراف اوپر کی طرف ہی گامزن ہے۔ آنے والے دنوں میں توانائی کے شعبے کے تاجر اور پالیسی ساز عالمی اقتصادی اشاریوں اور سیاسی پیش رفت کا باریک بینی سے جائزہ لیتے رہیں گے۔