LIVE
Loading Breaking News...

ایوان گرشکووچ کا روسی جیل اور قید کے حوالے سے بڑا انکشاف

News Image
امریکی جریدے کے صحافی ایوان گرشکووچ نے روسی جیل میں اپنے سولہ ماہ کے کٹھن دور کے حوالے سے سنسنی خیز انکشافات کیے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ روسی سکیورٹی ایجنسیوں کی جانب سے تفتیش یا تشدد نہ ہونے پر انہیں اندازہ ہوگیا تھا کہ وہ ایک بڑی سیاسی کھیل کا مہرہ بن چکے ہیں۔
امریکی جریدے وال اسٹریٹ جرنل کے صحافی ایوان گرشکووچ نے روس میں اپنی سولہ ماہ کی طویل اور کٹھن قید کے حوالے سے انتہائی چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔ ایوان گرشکووچ کو روس میں جاسوسی کے الزامات کے تحت حراست میں لیا گیا تھا، جس کے بعد وہ ایک بڑے بین الاقوامی قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے تحت آزاد ہو کر اپنے وطن واپس لوٹے تھے۔ انہوں نے حال ہی میں دیے گئے ایک انٹرویو میں بتایا کہ کس طرح انہیں ایک سوچی سمجھੀ سازش کے تحت جال میں پھنسایا گیا اور وہ اس صورتحال کا شکار بنے۔ صحافی نے اس بات کا انکشاف کیا کہ انہیں حراست میں لینے کے بعد روسی فیڈرل سکیورٹی سروس (FSB) کے ایجنٹوں نے نہ تو روایتی انداز میں کوئی سخت تفتیش کی اور نہ ہی ان پر جسمانی تشدد کیا گیا۔ ایوان کے مطابق، اسی رویے نے ان کی آنکھیں کھول دیں اور انہیں فوری طور پر یہ احساس ہو گیا کہ وہ کسی عام قانونی مقدمے کا نہیں بلکہ ایک بڑی سیاسی اور سفارتی چال کا حصہ بن چکے ہیں۔ انہیں یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگی کہ وہ ایک بڑے کھیل میں محض ایک مہرہ کی حیثیت رکھتے ہیں جسے بعد میں سیاسی سودے بازی کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ روسی جیل میں گزارے گئے ان سولہ مہینوں کے دوران ایوان گرشکووچ کو شدید ذہنی دباؤ اور تنہائی کا سامنا کرنا پڑا، تاہم انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ ان کا یہ انٹرویو عالمی میڈیا پر بڑی بحث کا موضوع بن چکا ہے جس میں دنیا بھر کے صحافیوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے روسی حراست کے نظام اور صحافیوں کو نشانہ بنانے کے طریقوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس قسم کے اقدامات سے صحافت کی آزادی کو دبانے کی کوشش کی جاتی ہے جو کہ بین الاقوامی قوانین کے منافی ہے۔ آخر کار، طویل سفارتی کوششوں اور امریکہ اور روس کے درمیان اعلیٰ سطح کے مذاکرات کے بعد ایک تاریخی قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے تحت ایوان کو رہائی نصیب ہوئی۔ اس معاہدے کو عالمی سطح پر سراہا گیا کیونکہ اس نے کئی بے گناہ افراد کو مشکل حالات سے نجات دلائی۔ ایوان گرشکووچ کی یہ کہانی نہ صرف ان کی ذاتی تکلیف اور ثابت قدمی کی عکاس ہے بلکہ یہ اس خطرناک ماحول کو بھی بے نقاب کرتی ہے جس کا سامنا دنیا بھر کے تحقیقی اور غیر ملکی صحافیوں کو آمرانہ حکومتوں میں کام کرتے ہوئے کرنا پڑتا ہے۔