LIVE
Loading Breaking News...

ٹیلر سُوِئفٹ اور وی ایم اے ایوارڈز: کیا میوزک ویڈیوز کا دور ختم ہو رہا ہے؟

News Image
حال ہی میں ٹیلر سُوِئفٹ نے وی ایم اے ایوارڈز میں شاندار کامیابی حاصل کی ہے جس نے ایک بار پھر میوزک ویڈیوز کی اہمیت پر بحث چھیڑ دی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹک ٹاک جیسے پلیٹ فارمز کے عروج کے بعد میوزک ویڈیوز کا مقصد اور افادیت اب مکمل طور پر بدل چکی ہے۔
موسیقی کی دنیا کے سب سے بڑے میل جول اور ایوارڈز میں شمار ہونے والے وی ایم اے (VMAs) میں مشہور پاپ سٹار ٹیلر سُوِئفٹ نے ایک بار پھر اپنا جادو جگاتے ہوئے میدان مار لیا اور کئی اہم ایوارڈز اپنے نام کیے۔ ان کی شاندار کامیابی نے نہ صرف مداحوں کو جھومنے پر مجبور کر دیا بلکہ موسیقی کی صنعت میں ایک اہم سوال کو بھی دوبارہ زندہ کر دیا ہے کہ کیا آج کے ڈیجیٹل دور میں روایتی میوزک ویڈیوز کی اہمیت اب بھی برقرار ہے یا نہیں۔ اس سوال نے شوبز کے حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کیونکہ سامعین کی ترجیحات میں تیزی سے تبدیلی آ رہی ہے۔اس حوالے سے ماہرین اور سنیماٹوگرافرز کا ماننا ہے کہ میوزک ویڈیوز کا بنیادی مقصد اور کردار وقت کے ساتھ ساتھ کافی حد تک تبدیل ہو چکا ہے۔ نامور سنیماٹوگرافر ملیسا کوفی کا کہنا ہے کہ ٹک ٹاک اور انسٹاگرام ریلز جیسی مختصر ویڈیوز والے پلیٹ فارمز کے پھیلاؤ کے بعد اب گانوں کو پیش کرنے کا انداز یکسر بدل گیا ہے۔ ماضی میں جہاں ایک مکمل اور طویل کہانی پر مبنی میوزک ویڈیو فنکار کی شناخت کا بڑا ذریعہ ہوتی تھی، اب گانے کے چھوٹے ٹکڑے اور وائرل کلپس زیادہ اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔موجودہ دور میں سوشل میڈیا کی یہ مختصر کلپس گانے کو ہٹ کرانے میں سب سے اہم کردار ادا کرتی ہیں، کیونکہ مداح اب پوری ویڈیو دیکھنے کے بجائے اس کے چند سیکنڈز کے حصص کو زیادہ پسند کرتے ہیں۔ اس کے باوجود، ٹیلر سُوِئفٹ جیسی بڑی شخصیات یہ ثابت کرتی ہیں کہ جب کوئی آرٹسٹ سنیما کے معیار کی بڑی پروڈکشن والی میوزک ویڈیو بناتا ہے تو وہ آج بھی شائقین کو اپنی طرف کھینچنے میں کامیاب رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میوزک ویڈیوز کی شکل ضرور بدلی ہے لیکن ان کی افادیت اور فنکارانہ اظہار کی حیثیت اب بھی اپنی جگہ قائم ہے۔