LIVE
Loading Breaking News...

بھارتی یونیورسٹی مبینہ زیادتی کیس اور طلباء کا احتجاج

News Image
بھارت کی ایک معروف نجی یونیورسٹی میں طالبہ کے ساتھ پیش آنے والے مبینہ زیادتی کے واقعے نے پورے تعلیمی ادارے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ پولیس اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے جبکہ کشیدہ صورتحال کے باعث طلباء نے شدید احتجاج کرتے ہوئے ہاسٹلز خالی کر دیے۔
بھارت کی ایک بڑی اور معروف نجی یونیورسٹی میں پیش آنے والے ایک مبینہ زیادتی کے واقعے نے پورے کیمپس کو شدید ہنگامہ آرائی اور بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا کر دیا ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق، پولیس اس بات کی تصدیق کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ آیا لولی پروفیشنل یونیورسٹی (ایل پی یو) کی حدود میں ایک طالبہ کو واقعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے یا نہیں۔ اس سنگین الزام کے سامنے آنے کے بعد یونیورسٹی کے اندر اور باہر شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ واقعے کی خبر پھیلتے ہی بڑی تعداد میں طلباء نے انصاف کے حصول اور سیکیورٹی کے فقدان کے خلاف یونیورسٹی کیمپس کے اندر زبردست احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ اس گھناؤنے جرم میں ملوث تمام افراد کو فوری طور پر بے نقاب کیا جائے اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ صورتحال اتنی زیادہ کشیدہ اور خطرناک ہو چکی ہے کہ انتظامیہ اور طلباء کے درمیان تناؤ بڑھنے پر بہت سے طلباء نے خوف کے عالم میں اپنے ہاسٹلز خالی کرنا شروع کر دیے ہیں اور وہ اپنے گھروں کو واپس جا رہے ہیں۔ والدین بھی اپنے بچوں کی سلامتی اور تحفظ کے حوالے سے شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔ دوسری جانب، مقامی پولیس اور انتظامیہ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے معاملے کی جانچ پڑتال کا دائرہ کار وسیع کر دیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تمام دستیاب شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں، سی سی ٹی وی فوٹیجز کی جانچ کی جا رہی ہے اور متاثرہ طالبہ کے بیان کی روشنی میں حقائق کا تعین کیا جا رہا ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے بھی سکیورٹی اقدامات کو مزید سخت کرنے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ جلد از جلد حقیقت سامنے آ سکے اور تعلیمی ماحول کو بحال کیا جا سکے۔