LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ ایران کشیدگی، ٹرمپ کا حملہ منسوخ اور ہرمز پر معاہدے کا مطالبہ

News Image
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر ممکنہ حملہ منسوخ کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کے معاملے پر فوری طور پر ایک نئے معاہدے پر پہنچنے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ پیش رفت ایرانی اعلیٰ سفارت کار کی جانب سے امریکہ اور اسرائیل کی کسی بھی ممکنہ جارحیت کے خلاف فیصلہ کن جواب دینے کی سخت وارننگ کے بعد سامنے آئی ہے۔
واشنگٹن: بین الاقوامی سیاست اور مشرق وسطیٰ کی سلامتی کے حوالے سے ایک انتہائی اہم پیش رفت میں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر مبینہ طور پر پلان کیا جانے والا حملہ عین وقت پر منسوخ کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے آبنائے ہرمز کے اہم بحری راستے پر 'فوری' اور جامع سمجھوتہ کرنے کا پرزور مطالبہ کیا ہے تاکہ خطے میں مزید جنگی صورتحال کو روکا جا سکے۔ یہ تمام تر تبدیلیاں ایک ایسے وقت میں رونما ہوئی ہیں جب دونوں ممالک کے مابین تناؤ انتہائی نچلی سے بلند ترین سطح پر پہنچ چکا تھا اور دنیا بھر میں جنگ کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا۔ ذرائع کے مطابق، امریکی صدر کی جانب سے یہ قدم ایرانی اعلیٰ سفارت کار کی اس پرزور اور دوٹوک وارننگ کے بعد اٹھایا گیا ہے جس میں تہران نے واضح کر دیا تھا کہ اگر امریکہ یا اسرائیل کی جانب سے کسی بھی قسم کی جارحیت کا مظاہرہ کیا گیا تو اس کا انتہائی سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ تہران کی جانب سے ملنے والے سخت پیغامات کے بعد عالمی منڈی میں ہلچل مچ گئی تھی اور تیل کی ترسیل کے اہم ترین مرکز یعنی آبنائے ہرمز کے حوالے سے سیکیورٹی خدشات میں دوگنا اضافہ ہو گیا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کا حملہ منسوخ کرنے کا فیصلہ خطے میں مکمل جنگ سے گریز کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا بھر کے توانائی کے ذخائر کی ترسیل کا ایک انتہائی حساس زون ہے اور اس میں کسی بھی قسم کی فوجی جھڑپ عالمی معیشت کو تباہ کر سکتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی برادری کی جانب سے کشیدگی میں کمی لانے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں اور فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی جا رہی ہے۔ مستقبل کے حوالے سے یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا ایران اور امریکہ اس سفارتی موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مذاکرات کی میز پر بیٹھتے ہیں یا نہیں۔ اگرچہ امریکی صدر نے فوری سمجھوتے کی خواہش ظاہر کی ہے، تاہم تہران اور واشنگٹن کے درمیان پایا جانے والا طویل مدتی عدم اعتماد اس عمل کو کٹھن بنا سکتا ہے۔ دریں اثنا، خطے کے دیگر ممالک بھی اس پوری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور خطے میں امن کے قیام کے لیے کوششیں جاری ہیں۔