LIVE
Loading Breaking News...

سپेन میں ہاؤسنگ بحران، بے دخلی کے خلاف نئے اقدامات کا اعلان

News Image
سپेन کی حکومت نے ایک 87 سالہ خاتون کی جبری بے دخلی کے خلاف شدید احتجاج کے بعد نئے اور سخت ہاؤسنگ اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ ان نئے اقدامات میں سال 2030 تک تمام بے دخلیوں پر پابندی اور کرائے داروں کے معاہدوں کی خودکار تجدید شامل ہے۔
سپेन کی حکومت نے ملک بھر میں بڑھتے ہوئے ہاؤسنگ بحران اور عوام کے شدید دباؤ کے بعد نئے ہاؤسنگ اقدامات کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلے ایک 87 سالہ بزرگ خاتون کی جبری بے دخلی کے المناک واقعے کے بعد سامنے آئے ہیں، جس نے پورے ملک میں غصے کی لہر دوڑا دی تھی اور ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ عوام کے اس پرزور احتجاج نے حکومت کو مجبور کیا کہ وہ فوری طور پر ہاؤسنگ پالیسیوں کا از سر نو جائزہ لے اور کرائے داروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے سخت قانونی اقدامات اٹھائے۔ حکومتی اعلان کے مطابق، نئے ہاؤسنگ پیکج میں سب سے اہم نکتہ سال 2030 تک ملک میں ہر قسم کی جبری بے دخلی پر مجوزہ پابندی عائد کرنا ہے۔ اس کے علاوہ، کرائے داروں کے معاہدوں کی خودکار تجدید کا نظام بھی نافذ کیا جا رہا ہے تاکہ مکان مالکان کی جانب سے اچانک معاہدے ختم کرنے یا کرایوں میں غیر معمولی اضافے کے رجحان پر قابو پایا جا سکے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ فیصلے سپेन کے رئیل اسٹیٹ سیکٹر اور ہاؤسنگ مارکیٹ میں ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوں گے۔ ان نئے قوانین سے لاکھوں ایسے کرائے داروں کو ریلیف ملے گا جو مہنگائی کے اس دور میں اپنے سر سے چھت چھن جانے کے خوف میں مبتلا تھے۔ حکومت کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ بنیادی رہائش ہر شہری کا ناقابلِ تسخیر حق بنے اور کسی بھی کمزور یا بزرگ شہری کو بے گھر نہ ہونا پڑے۔ دوسری جانب، پراپرٹی مالکان اور رئیل اسٹیٹ ایسوسی ایشنز کی جانب سے ان سخت ضوابط پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے، تاہم سماجی تنظیموں نے اس پیش رفت کو ایک بڑی فتح قرار دیا ہے۔