World
انڈونیشیا کی جیل میں لگژری سہولتوں کا انکشاف
انڈونیشیا کی ایک جیل میں اچانک کیے گئے سرپرائز معائنے کے دوران قیدیوں کے لیے بنائے گئے لگژری فلیٹس کا انکشاف ہوا ہے۔ ان پُرتعیش کمروں میں ٹیلی ویژن، جم اور شراب سے بھرے ہوئے ریفریجریٹرز موجود تھے۔
انڈونیشیا کی ایک جیل میں حکام کی جانب سے کیے جانے والے ایک اچانک معائنے کے دوران انتہائی حیران کن انکشاف سامنے آیا ہے جہاں جیل کے اندر قیدیوں کے لیے اپارٹمنٹ نما لگژری یونٹس بنائے گئے تھے۔ اس غیر متوقع کارروائی کے دوران حکام یہ دیکھ کر دنگ رہ گئے کہ قیدی جیل کے اندر تمام آسائشوں کی زندگی گزار رہے تھے اور انہیں وہ تمام سہولیات میسر تھیں جو عام طور پر ایک عام شہری کے فلیٹ یا گھر میں پائی جاتی ہیں۔
ذرائع کے مطابق ان خصوصی اور عیش و آرام سے بھرپور یونٹس میں جدید ترین ٹیلی ویژن سسٹمز، ذاتی ورزش کے لیے ایک جم اور ایسے ریفریجریٹرز نصب تھے جو شراب اور دیگر ممنوعہ اشیاء سے بھرے ہوئے تھے۔ یہ انکشاف ملک کے اصلاحی نظام اور جیل مینیجمنٹ پر ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے، جہاں قانون توڑنے والوں کو سزایافتہ ہونے کے باوجود لگژری ہوٹلوں جیسی سہولیات فراہم کی جا رہی تھیں۔
اس سنگین معاملے کے سامنے آنے کے بعد متعلقہ حکام اور وزارتِ انصاف نے فوری طور پر سخت نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ جیل کے اندر اس قسم کے غیر قانونی انتظامات کس کی ملی بھگت سے کیے گئے اور اس میں کون کون سے جیل عملے کے ارکان ملوث ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس گھناؤنے کھیل میں ملوث تمام ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
اس واقعے کے بعد دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ میں انڈونیشیا کے جیل خانے کی یہ خبر شہ سرخیوں میں ہے اور عام شہریوں کی طرف سے بھی شدید ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ کرپٹ عناصر کی وجہ سے عدالتی نظام کا مذاق بنایا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے مجرموں کو سزاؤں کا کوئی خوف باقی نہیں رہا۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس اسکینڈل کے بعد ملک بھر کی دیگر جیلوں میں بھی سخت انسپکشن کی جائے گی تاکہ اصلاحی اداروں کے اندر اس قسم کی بے ضابطگیوں کو جڑ سے اکھاڑا جا سکے۔