World
پنٹ لینڈ فورسز کی کارروائی، صومالی قزاقوں کے قبضے سے بحری جہاز آزاد
صومالیہ کے ساحلی علاقے پنٹ لینڈ کی فورسز نے ایک اور اغوا شدہ بحری جہاز کو سمندری قزاقوں کے چنگل سے آزاد کرا لیا ہے۔ اس کارروائی کے دوران پاکستانی عملے کی موجودگی اور خطے میں قزاقوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں پر عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
صومالیہ کے نیم خود مختار خطے پنٹ لینڈ کی سیکیورٹی فورسز نے ایک اور بڑی کارروائی کرتے ہوئے سمندری قزاقوں کے قبضے سے ایک اور اغوا شدہ بحری جہاز کو کامیابی کے ساتھ بازیاب کرا لیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق یہ کارروائی صومالی ساحلوں کے قریب کی گئی جہاں حالیہ مہینوں میں بحری قزاقوں کی سرگرمیوں میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھا گیا ہے۔ فورسز کی بروقت کارروائی کے نتیجے میں جہاز کو قزاقوں کے چنگل سے چھڑانے میں مدد ملی ہے۔ اس جہاز پر پاکستانی عملہ بھی سوار تھا، جس کی وجہ سے یہ واقعہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ اس کامیاب ریسکیو آپریشن کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں کو قزاقوں کی جانب سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا، لیکن پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے صورتحال پر قابو پا لیا گیا۔ واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں صومالی پانیوں میں بحری قزاقوں کی سرگرمیوں میں ایک بار پھر تیزی آئی ہے جسے بین الاقوامی ادارے اور دفاعی ماہرین پرانی مشکلات کا تسلسل قرار دے رہے ہیں۔ سیکیورٹی کے عالمی اداروں کا کہنا ہے کہ سن 2026 میں صومالی قزاقی صرف ماضی کا مسئلہ نہیں رہی بلکہ بین الاقوامی تجارت اور سمندری گزرگاہوں کے لیے ایک نیا اور سنگین خطرہ بن کر ابھری ہے۔ اس بحری جہاز کے اغوا اور بازیابی کے دوران پیش آنے والے افسوسناک واقعات میں کچھ غیر ملکی اور پاکستانی شہریوں کی ہلاکتوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جس سے جہاز رانی کی سلامتی پر ایک بار پھر سوالیہ نشان لگ گئے ہیں۔ پنٹ لینڈ اور بین الاقوامی میری ٹائم فورسز نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ صومالی ساحلوں کے قریب تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے گشت مزید سخت کیا جائے گا تاکہ قزاقوں کے نیٹ ورک کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے اور بحری جہازوں کے عملے کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔